بلوچ نیشنل موومنٹ ( BNM ) کی عالمی سطح پر بلوچ قوم کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف منظم اور مسلسل آواز اٹھانے کی مہم جاری ہے۔
28 مارچ کو بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے بروکن چیئر کے مقام پر ایک جامع فوٹو اور ڈیٹا نمائش کا انعقاد کیا، جس میں بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی گرفتاریوں، ریاستی جبر اور متاثرہ خاندانوں کی نسل در نسل جدوجہد کو تصویری شواہد اور اعداد و شمار کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا گیا۔
نمائش میں بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ بھی مختلف اسٹینڈز پر آویزاں تصاویر کے ساتھ موجود دکھائی دیے۔
نمائش میں آویزاں پوسٹرز میں جبری گمشدہ بلوچ خواتین کی فہرستیں نمایاں تھیں، جن میں ماہ جبین بلوچ، نسیمہ بلوچ، نسرین بلوچ، فرزانہ بلوچ، رحیمہ بلوچ، حیر نسا بلوچ اور حیات بی بی بلوچ کے نام درج تھے۔ پوسٹرز پر “Pakistan abducting Baloch women” اور “Release Baloch Women” جیسے جملے درج تھے، جنہوں نے شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل کی۔
نمائش میں گلزادی بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر جبری گمشدہ افراد کی تصاویر بھی آویزاں تھیں، جن کے ساتھ ان کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔ ہر پوسٹر کے نیچے QR کوڈ موجود تھا، جس کے ذریعے شرکاء مزید معلومات حاصل کر سکتے تھے۔ متعدد تصاویر میں بچوں اور نوجوانوں کو اپنے لاپتا والدین کی تصویریں تھامے دکھایا گیا تھا، جو بلوچستان میں نسل در نسل جاری جدائی اور درد کی علامت تھیں۔
ایک تصویر میں ایک شخص کی پیٹھ پر “BALOCH?” لکھا ہوا تھا، جو شناخت اور وجود کے سوال کو نمایاں کرتا تھا۔
نمائش میں بلوچ یکجہتی کمیٹی ( BYC)کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی پوسٹر بھی شامل تھا، جس میں لکھا تھا کہ وہ لوگ جو جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، خود ریاستی جبر کا شکار بنا دیے گئے۔
پوسٹر پر “#ReleaseBYCLeaders” اور “#StopBalochGenocide” جیسے ہیش ٹیگز درج تھے۔
نمائش میں پیش کیے گئے سالانہ انسانی حقوق رپورٹ 2023 کے اعداد و شمار نے شرکاء کو چونکا دیا۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ سال 1,355 جبری گمشدگیاں، 225 ماورائے عدالت قتل اور 407 تشدد سے بچ جانے والے افراد کی بازیابی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ایک بڑے چارٹ میں جنوری سے دسمبر تک ہر مہینے کے واقعات کی تفصیلی تعداد بھی درج تھی، جو ریاستی جبر کے تسلسل اور شدت کو واضح کرتی تھی۔
نمائش میں آویزاں متعدد علامتی تصاویر میں منہ بند کیے گئے افراد، بندھی ہوئی رسیاں، غمزدہ خاندانوں کی جھلکیاں اور احتجاجی پوسٹرز شامل تھے، جو بلوچستان میں جاری انسانی المیے کی گہری جھلک پیش کرتے تھے۔
بروکن چیئر کے سامنے کھڑے شرکاء اور بی این ایم چیئرمین کی موجودگی نے اس احتجاجی نمائش کو مزید مؤثر بنا دیا۔
بی این ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کئی دہائیوں سے جاری ہیں، مگر عالمی اداروں کی خاموشی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ان کے مطابق اس نمائش کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور اقوامِ متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کو عملی اقدامات پر مجبور کرنا ہے۔
نمائش میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں نے شرکت کی اور بلوچستان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔