بلوچستان کے علاقے تربت اور کراچی سے 2 افراد جبری لاپتہ ہوگئے۔
کراچی سے اطلاعات ہیں کہ بلوچ اکثریتی علاقے ملیر سے ایک نوجوان کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت عاصم اصغر کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انہیں گذشتہ دنوں ملیر کے علاقے شرافی گوٹھ میں واقع ایک فٹبال گراؤنڈ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
مقامی افراد اور خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم اصغر کو سادہ لباس اہلکاروں نے اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب تربت سے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے لاپتہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق عبدالغفار ولد عبدالستار 13 مارچ سے لاپتہ ہیں اور تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
عبدالغفار کے بھائی نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز جمعہ کے دن سلالہ بازار سے مزدوری کے لیے گھر سے نکل کر تربت کے مزدور چوک گئے تھے، تاہم اس کے بعد وہ واپس گھر نہیں لوٹے۔
اہلِ خانہ کے مطابق عبدالغفار کی گمشدگی کے حوالے سے قریبی پولیس تھانے میں درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے اور پولیس سے ان کی تلاش کے لیے مدد طلب کی گئی ہے۔
اہلِ خانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو عبدالغفار کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس تھانے کو اطلاع دیں تاکہ انہیں بحفاظت گھر پہنچانے میں مدد مل سکے۔