بلوچستان میں ایرانی تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے تک کا اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات بلوچستان تک پہنچ گئے ہیں، جہاں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 40 سے 50 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد اس اضافے کو ایران میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی تیل کی قیمتوں میں اضافہ یکساں نہیں، تاہم مجموعی طور پر نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت ڈیڑھ ہفتہ قبل 180 روپے تھی جو بڑھ کر 230 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ گوادر میں پیٹرول 130–135 روپے سے بڑھ کر 180 روپے ہوگیا،ڈیزل 140 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی لیٹر ہو گیا۔

نوشکی میں پیٹرول 190 روپے سے بڑھ کر 220 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔جبکہ ماشکیل میں سرحد سے قریب ہونے کے باوجود قیمتیں زیادہ ہیں۔پیٹرول 170–180 روپے سے بڑھ کر 230–250 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔

تاجر رہنماؤں کے مطابق ایران سے چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے تیل کی ترسیل جنگی صورتحال کے باعث متاثر ہوئی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع — چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر — ایران سے متصل ہیں، اور ان علاقوں سمیت صوبے کے بیشتر حصوں میں پاکستانی تیل کمپنیوں کا تیل دستیاب نہیں۔

گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کا انحصار ایرانی پیٹرول اور ڈیزل پر ہے۔

تاجر رہنما کبیر احمد ریکی کے مطابق: ہم نے آج تک پاکستانی کمپنیوں کا ایک لیٹر تیل بھی استعمال نہیں کیا۔ اگر جنگ طویل ہوئی اور ایرانی تیل کی ترسیل بند ہوگئی تو بلوچستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔

سرکاری حکام کے مطابق چند سال قبل ایران سے بلوچستان میں روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر تیل آتا تھا، جو ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسمگل ہوتا تھا۔

گزشتہ تین چار سال میں سختی کے باعث اس مقدار میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور اب صرف 8 لاکھ لیٹر روزانہ تیل سرحدی اور قریبی علاقوں کی ضرورت کے مطابق لایا جا رہا ہے۔

Share This Article