بلوچستان کی قومی زبانوں پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں کے نمائندہ وفد نے آج گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی اور مجوزہ “بلوچستان ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹری سوسائٹیز بل 2025” کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کیے۔
ملاقات کے دوران گورنر بلوچستان نے بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی زبانوں اور ادب کی ترقی کا بنیادی سبب ان اکیڈمیوں کی خود مختاری ہے، اور یہی آزادی ان اداروں کی اصل طاقت اور خوبصورتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زبان و ادب کا معاملہ انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ خالصتاً علمی اور فکری ہے، جسے ادیب، شاعر اور دانشور ہی بہتر طور پر آگے بڑھا سکتے ہیں۔
وفد نے گورنر کو اکیڈمیوں کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارے ادیبوں اور دانشوروں نے اپنی ذاتی کوششوں، محدود وسائل اور عوامی تعاون سے قائم کیے تھے، اور طویل عرصے تک کرائے کی عمارتوں میں کام کرتے رہے۔ وفد کا مؤقف تھا کہ حکومتی گرانٹ بعد میں شامل ہوئی، اور محض گرانٹ کی بنیاد پر ان خود مختار اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا کسی طور درست نہیں۔
گورنر بلوچستان نے وفد کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گے تاکہ ان علمی و ادبی اداروں کے وقار اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وفد نے گورنر کی حمایت اور اصولی مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا ایک مختصر ورژن یا سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے موزوں شکل بھی تیار کر سکتا ہوں۔