بلوچستان کے علاقے نوشکی میں سات ماہ کے دوران ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کے واقعات نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
مقتولین کی والدہ اور بھابھی نے پریس کلب نوشکی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اورپاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری انصاف کی اپیل کی۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 14 اگست 2025 کو بڑے بیٹے ملک محمد یونس محمد شہی کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
ورثا کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر نوشکی پولیس تھانے میں درج کرائی گئی، مگر چھ ماہ گزرنے کے باوجود قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
خاتون نے مزید بتایا کہ 2 مارچ کو ان کے چھوٹے بیٹے بابو محمد یعقوب کو دھوکے سے گھر سے باہر بلا کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس میں بابو محمد یعقوب، ان کی اہلیہ (س) اور نو ماہ کا بیٹا شایان محمد شہی موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ دو سالہ بچہ محمد الیاس معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ یہ کمسن بچہ پریس کانفرنس کے دوران اپنی دادی کے ہمراہ موجود تھا۔
ورثا کا کہنا تھا کہ دوسرے واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے، لیکن تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان نہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ خاندان کو قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
مقتولین کی والدہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ دیا جائے۔