بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین دنوں کے دوران فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جن میں جھڑپیں، اہلکاروں کے زخمی ہونے اور سرکاری عمارتوں پر قبضے کے واقعات شامل ہیں۔
اس صورتحال کے دوران بلوچ ریپبلکن گارڈ (BRG) نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نیا ذیلی یونٹ پرویز اربن وارئیرز (PUW) مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہا ہے۔
بلوچ ریپبلکن گارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ پرویز اربن وارئیرز اس کا پہلا ذیلی یونٹ ہے، جو حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں آپریشنز انجام دے رہا ہے۔
گروپ نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔
ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
آج خضدار کے علاقے کرخ اور سبی میں بڑی تعداد میں مسلح افراد نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے علاقے کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
کرخ میں حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن اور نادرا کے دفتر سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیا۔
ذرائع کے مطابق تھانے پر دھاوا بول کر ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔اور مسلح افراد نے کئی گھنٹوں تک علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
اس سے قبل سبی کے قریب گلو شہر میں بھی مسلح افراد نے پولیس تھانے اور متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
فائرنگ طویل وقت تک جاری رہی۔ تھانے میں موجود اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ اسلحہ اور سرکاری سامان قبضے میں لے لیا گیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر مسلح افراد کی گشت کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
خضدار کے علاقے کرخ کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکاروں کی گاڑیوں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔
پاکستانی حکام نے تصدیق کی کہ اس حملے میں کم از کم سات اہلکار زخمی ہوئے۔
حملہ آوروں کی شناخت اور تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بلوچستان میں تین دنوں کے دوران ہونے والے یہ حملے ایک مربوط سلسلے کی شکل میں سامنے آئے ہیں، جن میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ، فورسز کی گاڑیوں پر حملے، اہلکاروں کی حراست اور جھڑپوں اور زخمیوں کی اطلاعات شامل ہیں۔
بی آر جی کے نئے یونٹ PUW کے اعلان نے ان واقعات کے تناظر میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، جبکہ حکومتی سطح پر مجموعی صورتحال پر کوئی جامع ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب بی ایل ایف نے 3 فروری کو ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں فورسز کے خلاف مربوط کارروائی میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جھڑپوں میں تنظیم نے اپنے 7 جنگجو ئوں کی شہادت کا اعتراف بھی کیا ہے۔