بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ھوشاپ میں پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے خلاف مربوط کارروائی میں دشمن کی 2 گاڑیاں تباہ اور متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ اس جھڑپ میں 7 سرمچار ساتھی وطن کی دفاع میں شہیدہوگئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 فروری 2026 کو ہوشاپ میں چار مختلف مقامات پر قابض فورسز کے خلاف ایک مربوط کارروائی کا آغاز کیا۔ اس منظم کارروائی کے دوران سرمچاروں کے مختلف دستوں نے ہوشاپ کے چار مختلف مقامات پر بیک وقت دشمن فوج کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں سرمچاروں کے ایک دستے نے ہوشاپ بازار میں قائم پولیس تھانے کا مکمل گھیراؤ کیا اور وہاں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تھانے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ سرمچاروں کا ایک دستہ وہاں موجود سرکاری اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی ساز و سامان کو اپنے قبضے میں لے رہے تھا کہ اسی اثناء میں چار گاڑیوں پر مشتمل دشمن کا ایک فوجی قافلہ قریب پہنچ گیا جس کے نتیجے میں سرمچاروں اور دشمن فوج کے درمیان آمنے سامنے کی شدید جھڑپ شروع ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس معرکے کے دوران سرمچاروں نے دشمن کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنا کر انہیں ناکارہ بنا دیا، جس میں سوار متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ جبکہ ایک دوسرے مقام پر پوزیشن لیے ہوئے سرمچاروں کے دوسرے دستے نے دشمن کی دو بکتر بند گاڑیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے اور دو گاڑیاں ناکارہ ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ زمینی محاذ پر اپنے فوجی دستوں کی شکست اور پسپائی کو دیکھتے ہوئے دشمن نے گن شپ ہیلی کاپٹرز اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا سہارا لیا تاکہ سرمچاروں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ اس طویل جھڑپ میں ہمارے سات جانباز سرمچاروں نے آخری گولی اور آخری سانس تک دشمن کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
شہید شنید بلوچ عرف شوھاز بلوچ
ولد محمد رفیق، سکنہ سہاکی کیلکور
شہید شنید بلوچ نے 2016 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس سے قبل وہ 2012 سے طلبہ سیاست سے وابستہ رہے۔ وہ ایک نہایت بہادر، جفاکش اور سیاسی شعور سے لیس سرمچار تھے۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر اپنی غیر معمولی جنگی قابلیت سے دشمن کو کاری ضربیں لگائیں اور ہر مشکل مشن میں صفِ اول میں رہے۔ ان کا خاندان طویل عرصے سے ریاستی جبر اور درپدری کی صعوبتیں جھیل رہا ہے۔ تنظیم ان کی بے مثال قربانی، بہادری اور استقامت پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید زباد بلوچ عرف دیدگ
ولد غلام محمد بلوچ، سکنہ سید آباد کیلکور، پنجگور
شہید زباد بلوچ نے 2019 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جبکہ اس سے قبل وہ 2015 سے طلبہ تنظیم میں متحرک تھے۔ وہ ایک نڈر اور جفاکش سرمچار تھے جنہوں نے کٹھن حالات اور خاندان پر ہونے والے مظالم کے باوجود تحریک سے اپنا عملی شعوری رشتہ برقرار رکھا۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر کاروائیوں میں شریک ہوکر دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ تشدد اور جبری گمشدگی جیسے ہتھکنڈے بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکے۔ ان کی جدوجہد اور بے لوث قربانیوں پر تنظیم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید عطا بلوچ عرف عبید
ولد شہیک، سکنہ سنگ آباد تجابان
شہید عطا بلوچ جولائی 2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد میں شامل ہوئے۔ وہ ایک انتہائی بہادر اور خوش اخلاق ساتھی تھے جنہوں نے متعدد عسکری کارروائیوں میں اپنی شجاعت کو منوایا۔ ان کی جفاکشی، دلیری اور مخلصانہ کردار کی بدولت انہیں ہمیشہ ایک نڈر سپاہی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ تنظیم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید غفار بلوچ عرف نوروز
ولد عزیز، سکنہ جت کولواہ
شہید غفار بلوچ نے 2023 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور بہت جلد ایک بہادر و جفاکش سپاہی کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ ہوشاپ کے معرکے میں انہوں نے راکٹ لانچر چلانے کی کٹھن ذمہ داری نبھاتے ہوئے مختلف پوزیشنز سے دشمن پر کاری ضربیں لگائیں۔ ان کی جنگی مہارت اور وطن سے محبت کی گواہی ان کی شہادت دے رہی ہے۔ تنظیم ان کے اس دلیرانہ کردار پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید عبدالصمد بلوچ عرف مہیم جان
ولد سردو، سکنہ گندچائی
شہید عبدالصمد بلوچ نے جنوری 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور ایک انتہائی جفاکش سرمچار کے طور پر ابھرے۔ دشمن کے خلاف اپنے آخری معرکہ سمیت انہوں نے مختلف محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں نہایت بہادری اور جانفشانی سے پوری کیں۔ تنظیم ان کی قومی خدمات اور بے لوث قربانی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید ظہیر بلوچ عرف استال
ولد معیار، سکنہ کولواہ
شہید ظہیر بلوچ نے فروری 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور اپنے آپ کو وطن کی آزادی اور دفاع کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ایک متحرک اور جفاکش نوجوان تھے، جنہوں نے انتہائی مختصر عرصے میں مختلف محاذوں پر اپنے عسکری مہارت کے جوہر دکھائے۔ تنظیم ان کی اس عظیم قربانی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شہید ندیم عرف ساحل
ولد امیر بخش، سکنہ بلور کولواہ
شہید ندیم بلوچ نے مارچ 2025ء میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے قابض فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ آپ نے نہایت قلیل عرصے میں اپنی بے مثال جانفشانی، استقامت اور جفاکشی کے باعث اپنے رفقائے کار اور تنظیمی صفوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ہوشاپ کے مقام پر دشمن فورسز کے خلاف ہونے والے حالیہ معرکے میں آپ نے مردانہ وار مقابلہ کیا اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید ندیم بلوچ کی یہ عظیم قربانی قومی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
آخر میں میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ ہم اپنے ان عظیم شہداء کی بے مثال شجاعت پر انہیں سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان شہداء نے اپنے مقدس لہو سے تحریکِ آزادی کی آبیاری کی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ سرزمینِ بلوچستان کا دفاع کرنے والے فرزند کسی بھی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ ان کی یہ لازوال قربانی سرمچاروں کے حوصلوں کو مزید مضبوط کرے گی۔ سرمچار ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قابض دشمن کو ہر محاذ پر شکستِ فاش سے دو چار کرتے رہیں گے۔ بی ایل ایف عہد کرتی ہے کہ شہداء کے خون کو رائیگاں جانے نہیں جائے گا اور بلوچستان کی آزادی تک ان کے عظیم مشن کو عزم و استقلال کے ساتھ جاری رکھے گا۔