بلوچستان اکیڈمی تربت کی ایگزیکٹو باڈی کا ایک اہم اجلاس اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر غفور شاد کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کے تحت قومی زبانوں کے ادبی و تحقیقی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کے مجوزہ اقدام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں اراکین نے مجوزہ بل کی ممکنہ منظوری کی صورت میں ادبی و تحقیقی اداروں پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون زبانوں کے فروغ، تحقیقی و تخلیقی سرگرمیوں اور اداروں کی خودمختاری کو متاثر کرے گا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ قومی زبانوں کے ادبی و تحقیقی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 صوبے کی قومی زبانوں کی ترقی و ترویج کے بجائے ان کے لیے رکاوٹ ثابت ہوگا۔ شرکاء کے مطابق حکومتِ بلوچستان کی جانب سے منظور شدہ اس بل کا مقصد ادبی و لسانی اداروں کو محکمہ ثقافت اور محکمہ تعلیم کے زیر انتظام لانا ہے، جسے زبان و ادب کی ترقی کے منافی اقدام قرار دیا گیا۔
ایگزیکٹو باڈی کے اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے پیش کردہ اس بل کو بغیر کسی مؤثر مشاورت اور سوسائٹیز ایکٹ 1860 کی روح کے منافی انداز میں کابینہ سے منظور کروایا گیا، جس پر شدیدتحفظات کا اظہار کیاگیا۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر اس بل کو واپس لے اور بلوچستان کی مختلف زبانوں کی ترقی، تحفظ اور ترویج کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے۔ شرکانے کہا کہ ادبی و تحقیقی ادارے طویل عرصے سے ادب و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لہٰذا ان کی خودمختاری برقرار رکھی جائے۔
شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت ادبی اداروں کو تحویل میں لینے کے بجائے اسکولوں اور ہسپتالوں کی فعالیت اور محکمہ تعلیم و صحت کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے۔ مزید کہا گیا کہ ایک جانب حکومت مختلف اداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ادبی و تحقیقی اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، جو ایک متضاد طرزِ عمل ہے۔
اجلاس کے اختتام پر حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اہلِ علم و ادب کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے اس متنازع بل پر نظرِ ثانی کی جائے۔