چودہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 29 اہلکار ہلاک، چوکیوں اور شاہراہوں پر کنٹرول، اسلحات ضبط کئے ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے ) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں چودہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 29 اہلکار وں کی ہلاکت ، چوکیوں اور شاہراہوں پر کنٹرول سمیت اسلحات ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 3 اپریل سے 14 اپریل کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سوراب، خاران، واشک، مستونگ، اوتھل، جھل مگسی اور پنجگور میں چودہ مختلف کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کے 29 اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فورسز کی چوکیوں سمیت مختلف شاہراہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے ناکہ بندیاں کی گئیں، جبکہ 13 لیویز و پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کی رسد کو بھی دو مقامات پر نشانہ بناکر تباہ کیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ ہونے والی ان شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین جری سرمچاروں سلیم عرف قاضی نوید، علی دوست عرف ذاکر اور سمیع اللہ عرف ہکل نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

3 اپریل: سوراب کے مقام انجیرہ کراس پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے کراچی سے کوئٹہ منتقل کی جانے والی سرکاری ہیوی مشینری کو نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا، جس میں دو ایکسیویٹر اور ایک ٹرالر شامل تھے۔

6 اپریل: سوراب میں ‘فارم’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کو ایک شدید حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 7 اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس دوران ہونے والی شدید جھڑپ میں سنگت سلیم جتک عرف قاضی، سنگت علی دوست عرف مُلا ذاکر اور سنگت سمیع اللہ شاہوانی عرف ہکل مادرِ وطن کے دفاع میں شہید ہوگئے۔

8 اپریل: بی ایل اے کے سرمچاروں نے خاران-بسیمہ روڈ اور خاران-نوشکی روڈ پر بیک وقت ناکہ بندیاں کر کے تلاشی کا عمل (اسنیپ چیکنگ) شروع کیا۔ اس دوران نوروز قلات کے مقام پر پولیس کی ایک گاڑی نے ناکہ بندی توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے نشانہ بنایا، حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ دریں اثناء، ساروان کے مقام پر سرمچاروں نے ناکہ بندی کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔

واشک میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے چار گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنانے کے بعد دیگر گاڑیوں پر حملہ کیا۔ اس کارروائی میں قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار اور کٹھ پتلی وزیر عاصم کرد گیلو کے ٹھکانے پر حملہ کرکے وہاں موجود مورچوں اور مشینری کو تباہ کردیا۔

9 اپریل: مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR) نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔ اس جدید حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ دشمن کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

10 اپریل: اوتھل شہر میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک مسلح کارروائی میں ملٹری انٹیلیجنس (MI) کے کارندے عدیل ارشد (سکنہ خانیوال، پنجاب) کو ہلاک کردیا۔

11 اپریل: خاران کے علاقے چنال میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض فوج کے سات گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ دشمن کی 4 گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اسی دوران قابض فوج کی مزید 4 گاڑیوں نے المرک کی جانب سے پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں کے دوسرے دستے نے روک کر شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 9 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

مستونگ میں دشت کے علاقے کمبیلا میں سرمچاروں کی ناکہ بندی کے دوران قابض فوج نے ایک سویلین گاڑی میں چھپ کر پیش قدمی کی کوشش کی، جسے بروقت کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، حملے میں دشمن کے 2 اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

جھل مگسی کے علاقوں لانڈی اور سفراڑی میں سرمچاروں نے لیویز چوکیوں پر قبضہ کرکے تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان کا اسلحہ ضبط کرلیا۔ تاہم بعد ازاں، مقامی عمائدین کی درخواست اور ضمانت پر اہلکاروں کو وارننگ دے کر رہا کردیا گیا۔

12 اپریل: خاران کے علاقے گرُک میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو ایندھن سپلائی کرنے والے ایک ٹرک کو رسد سمیت تحویل میں لیا۔ دورانِ تفتیش ڈرائیور نے اعتراف کیا کہ یہ ایندھن کراچی سے قابض فوج کے کیمپ منتقل کیا جارہا تھا۔

پنجگور کے علاقے پروم (کیلکور) میں سرمچاروں نے قابض فوج کی رسد لے جانے والی گاڑیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ فوجی قافلے کی حفاظت میں جارہی تھیں۔ سرمچاروں نے قافلے کے بیچ میں موجود ایک رسد گاڑی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ دوسری گاڑی کو فائرنگ کرکے شدید نقصان پہنچایا اور بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔

سوراب کے علاقے بینچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کو مرکزی شاہراہ پر اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گاڑیوں کے ذریعے پیش قدمی کی کوشش کررہی تھی۔ اس حملے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

14 اپریل: خاران کے علاقے شیروزی میں سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ اور دیگر فوجی ساز و سامان ضبط کرلیا، جبکہ اہلکاروں کو تادیبی تنبیہ کے بعد رہا کردیا گیا۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حالیہ کارروائیوں کے ذریعے یہ واضح کرتی ہے کہ ہماری مادرِ وطن کے دفاع کی جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں دشمن کیلئے زمین کے ساتھ ساتھ شاہراہیں اور سمندر بھی مقتل ثابت ہورہے ہیں۔ ان جھڑپوں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ہمارے سرمچاروں کی عظیم قربانی، ان کی غیر متزلزل استقامت اور وطن سے وفاداری کی وہ لازوال داستان ہے جو بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کا لہو اس تحریک کی وہ توانائی ہے جو آزادی کی منزل تک ہمارا راستہ روشن رکھے گی۔ ہم قابض پاکستانی فوج کے سپاہیوں کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر فطری اور جبری قبضے کا ایندھن بننے سے باز رہیں اور بلوچ دشمنی پر مبنی اس استعماری جنگ کا حصہ بن کر اپنی جانیں ضائع نہ کریں۔ تم محض کرائے کے سپاہی کا کردار ادا کررہے ہو جسے ایک قبضہ گیر ریاست اپنے توسیع پسندانہ عزائم کیلئے استعمال کرکے لاوارث چھوڑدیتی ہے۔ تمہارے لیئے بہتری اسی میں ہے کہ جبر نافذ کرنے کی اس ناکام کوشش کو ترک کرکے واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور پنجاب میں جا کر عزت کی روزی روٹی کماؤ، تاکہ تم اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک پرسکون اور محفوظ زندگی بسر کر سکو، ورنہ بلوچستان کی یہ تپتی زمین تمہارے لیئے مزید تنگ کردی جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ صرف تابوتوں میں ملے گا۔

Share This Article