بلوچستان کے ادبی و لسانی اداروں کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس بلوچی اکیڈمی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ادبی اداروں کی مشاورت کے بغیر ایک بل کابینہ سے منظور کرائی گئی ہے کہ جس کا مقصد بلوچستان کی ادبی و لسانی اداروں کو محکمہ کلچر اور ایجوکیشن کے زیر انتظام چلانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
چیئرمین بلوچی اکیڈمی ہیبتان عمر کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں پشتو اکیڈمی، براہوئی اکیڈمی، ہزارگی اکیڈمی سمیت بلوچستان کے دیگر ادبی اداروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بل کو زبان و ادب دشمنی کے مترادف قرار دے دیا گیا اور بلوچستان حکومت سے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین قوموں کی ثقافت، شناخت اور زبان کے تحفظ کے لیے ہر فرد کو جدوجہد کرنے کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کئی اقوام بھائی چارگی کے ساتھ اپنی شناخت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، اسی طرح اس ملک کی ترقی و خوشحالی میں ادیبوں، لسانیات کے ماہرین اور محققین کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے۔
ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے پیش کردہ بل بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کو بغیر کسی مشاورت اور 1860 سوسائٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کابینہ سے پاس کروایا ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔
چیئرمین براہوئی اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوئی نے اس بل کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے ادبی وتحقیقی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو ختم کرنے کی پالیسی قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا بلوچی ، براہوئی اور پشتو اکیڈمیاں بشمول دیگر ادبی اداروں کے کئی صدیوں سے اپنی زبان، ادب اور ثقافت کی ترقی و ترویج کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ اگر ان اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوشش کی گئی تو یہ زبان و ادب کی دشمنی کے مترادف ہوگی۔
انہوں نے کہا محکمہ کلچر اور محکمہ ایجوکیشن بلوچستان میں تعلیم اور ادب کے فروغ کے لیے سالانہ اربوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر آج بھی لاکھوں بچے نہ صرف اسکولوں سے باہر ہیں بلکہ بلوچستان میں بسنے والے افراد کی شناخت، کلچر اور ادب کی ترقی و ترویج میں قابل ذکر کردار ادار کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اب اگر بلوچی، پشتو، براہوئی اور ہزارگی زبان کے اداروں کو بھی سرکاری تحویل میں لیا گیا تو ان کی ترقی و ترویج کا عمل روایتی انداز میں مشکلات کا شکار ہوجائیں گی۔
پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوئی نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور بلوچستان کابینہ وزراہ سے مطالبہ کیا کہ اس بل کو واپس لیا جائے اور بلوچستان کی مختلف زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھایا جائے۔
ہزارگی اکیڈمی کے چیئرمین احمد علی بیگ نے بلوچستان کابینہ کے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ایکٹ سے زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے کی جانے والی مخلصیں کوششوں کا راستہ بند ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا ادبی شخصیات کی کوششوں سے ادبی و تحقیقی ادارے آج اس مقام تک پہنچے ہیں لیکن جب ایسے ادارے حکومتی تحویل میں لیے جائیں گے تو روایتی طور پر ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔
بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ہیبتان عمر نے کہا کہ بلوچستان کے ادبی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا بلوچی سمیت دیگر زبانوں کے لیے تباہی کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آرٹ کونسل پچھلے کئی سالوں سے غیر فعال ہے، اسی طرح محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام دوسری سرگرمیاں بھی یہاں کی زبانوں اور ادب کے فروغ کے لیے کس قدر سود مند ہیں، یہ سب پر عیاں ہیں۔ اب اگر بلوچستان کے ادبی و تحقیقی اداروں کو سرکاری بورڈ آف گورنرز کے زیر انتظام چلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو یہاں کی زبانوں کے ساتھ بدترین دشمنی کے مترادف ہوگا۔
اجلاس میں مشترکہ طور پر قرارداد کے ذریعے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ زبان و ادب دشمن بل بلوچستان ریجنل لینگوئجز ، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025 کو منسوخ کرکے ان زبانوں کے اداروں کو مزید مستحکم اور آزادانہ طور پر کام کرنے کے لیے تعاون و مدد کیا جائے۔