پنجگور اور جیونی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 9 افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں لوگوں کی ماورائے قانون و آئین جبری گمشدگیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔گذشتہ دنوں صرف پنجگور اور جیونی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق 9 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاگیا جن کے بارے میں اب کوئی معلومات نہیں ہیں۔

پنجگور سے اطلاعات ہیں کہ گذشتہ روز 13 اپریل کو فورسز نے پنجگور کے علاقے پروم میں کہدہ حکیم بازار میں دوران فوجی جارحیت گھروں پر چھاپہ مارکر 7 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔

لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت مولا بخش ولد سخی داد،حسن ولد ناصر ،مختار ولد غلام رسول،بابو ولد فضل ،شکیل ولد غلام حسین، صابر ولد غلام حسین اور شریف ولد غلام حسین کے ناموں سے ہوگئی ہے جو سب مزدور ہیں اور انہیں گھروں سے اٹھاکر لاپتہ کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب ساحلی ضلع گوادر کے تحصیل جیونی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے گزشتہ شب کارروائی کرتے ہوئے دو بلوچ نوجوانوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے وہ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

لاپتہ ہونے والے افراد کی شناخت ریاض سید، رہائشی کوسر بازار، اور جہانزیب ولد جامل، رہائشی سولن بازار کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق فورسز نے رات کے وقت دونوں گھروں پر چھاپہ مارا اور نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

واقعے کے بعد اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات تسلسل کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

Share This Article