بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ایرانی کرنسی کی فروخت اور لین دین کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا، جس کے باعث پاکستانی کرنسی مارکیٹوں میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں اور تجارتی مراکز میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے، جس میں مقامی ڈیلرز کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بڑی تعداد میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی اس قدر بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی فروخت سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے پاکستانی روپے کی قدر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت اور دیگر عوامل کی وجہ سے ایرانی کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، تاہم قانونی ذرائع کے بجائے غیر رسمی طریقوں سے اس کی فروخت نے کئی سوالات جنم دے دیے ہیں۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام کرنسی کی غیر قانونی منتقلی اور فروخت کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔