بلوچستان کے مختلف علاقوں خاران ، نوشکی ،کردگاپ ، ڈیرہ غازی خان اور پسنی سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مزید 7 افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
خاران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق 12 اپریل 2026 کو تالان کے مقام سے دو مقامی تاجروں کو فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔
جبری لاپتہ کئے گئے ان افراد کی شناخت دو بھائیوں نیاز ولد ماسٹر ایاز اور ریاض ولد ماسٹر ایاز کے ناموں سے ہوگئی ہے جو پیشے کے لحاظ سے تاجر اور خاران کے رہائشی ہیں۔
اسی طرح 9 اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی سے رکشہ ڈرائیور بلال بلوچ، ولد عبدالحق، کو ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔
مزید برآں، 10 اپریل 2026 کو ضلع گوادر کے تحصیل پسنی کے علاقے کلانچ سے ایک شخص امیر بلوچ ولد کریم، کو بھی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب مستونگ کے علاقے کردگاپ میں فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کر درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیاہے جن میں 2 کی شناخت ہوگئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق کردگاپ گرگینہ سے فورسز غوث بخش سرپرہ اور اس کے بھائی ساجد سرپرہ کو گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق کردگاپ کے مختلف علاقوں میں فورسز کا آپریشن جاری ہے جس میں علاقے سے اب تک درجنوں افراد کو گرفتار کر جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ڈیرہ غازی خان سے اطلاعات کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے سابق چیئرمین اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایم فل پولیٹیکل سائنس کے طالبعلم زبیر بلوچ کو گزشتہ شب فورسز نے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق زبیر بلوچ کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ڈیرہ غازی خان میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اہل خانہ نے زبیر بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ماورائے آئین حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ زبیر بلوچ کو جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے۔