مستونگ کو قلات ڈویژن سے علیحدہ کرنے کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردِعمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی نے مستونگ کو قلات ڈویژن سے علیحدہ کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستونگ تاریخی طور پر ریاست قلات کا نہایت اہم اور مرکزی حصہ رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تاریخ اور عوامی وابستگیوں سے متصادم ہے بلکہ عوامی مشاورت کے بغیر کیا گیا فیصلہ عوامی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کی جائے اور مقامی آبادی کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔

دوسری جانب نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے بھی اس فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مستونگ کے معدنی علاقے ڈیگاری، زڑخو، سنجدی اور مارواڑ کے ساتھ ساتھ افغانستان سے منسلک سرحدی علاقہ پنجپائی اور سرلٹھ کو ضلع کوئٹہ میں شامل کرنا عوام کے ساتھ سیاسی منافقت اور دھوکہ ہے۔

ان کے مطابق پہلے مستونگ پولیس کو قلات رینج سے نکال کر کوئٹہ رینج میں شامل کیا گیا اور اب ضلع کو کوئٹہ ڈویژن میں ضم کر کے ڈویژنل سطح کی نشستوں سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

اسلم بلوچ نے تجویز دی کہ اگر حکومت نئے ڈویژن بنانا چاہتی ہے تو مستونگ، قلات اور نوشکی پر مشتمل ایک نیا ڈویژن قائم کیا جائے اور اس کا ہیڈ کوارٹر مستونگ بنایا جائے، جو تینوں اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر کے اس کی سیاسی اور تاریخی حیثیت کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس فیصلے کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا جائے گا۔

مستونگ بلوچستان میں تاریخی اور سیاسی اعتبار سے ریاست قلات کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ اس علاقے کی معدنی اہمیت اور سرحدی حیثیت اسے نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی نمایاں بناتی ہے۔ مستونگ کو قلات ڈویژن سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ مقامی سطح پر شدید ردِعمل کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ اس سے عوامی شناخت، سیاسی نمائندگی اور تعلیمی و انتظامی مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ تنازعہ بلوچستان میں انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کے حساس پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں تاریخی وابستگیوں اور عوامی رائے کو نظرانداز کرنا سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر حکومت اس معاملے پر عوامی مشاورت اور اتفاقِ رائے کو مقدم نہ رکھے تو یہ فیصلہ صوبے میں مزید سیاسی بے چینی اور احتجاجی تحریکوں کو جنم دے سکتا ہے۔

Share This Article