ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جوہری معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان ’بالواسطہ‘ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں اختتام پذیر ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد مذاکرات کے مقام سے چلا گیا ہے۔
اس دوران وہاں موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی وفد اس عمارت میں داخل نہیں ہوا جہاں عمان کے وزیر خارجہ اور ایرانی ٹیم موجود تھی۔
ایرانی وفد اقوام متحدہ میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر موجود تھا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے عمل سے مطمئن ہے اور اس کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور پہلے دور کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا۔
انھوں نے کہا کہ اس دور میں ’بات چیت کافی سنجیدہ تھی‘ اور ’زیادہ تعمیری ماحول تھا‘ اور ’مختلف خیالات پیش کیے گئے اور ان پر سنجیدگی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’رہنما اصولوں پر کلی اتفاق ہوا ہے، اور ان اصولوں کی بنیاد پر ہم ایک متن لکھنا شروع کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کام فوری طور پر مکمل نہیں ہوگا، لیکن ایران اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ البتہ اگلے دور کے لیے ’کوئی مخصوص وقت طے نہیں ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے متن پر کام کریں، پھر ایسے متن کا تبادلہ کریں اور پھر تیسرے دور کے لیے تاریخ مقرر کریں۔‘
عباس عراقچی نے کہا کہ مجموعی طور پر مذاکرات کے اس دور میں ’پچھلے سیشن کے مقابلے میں اچھی پیش رفت ہوئی، اور اب ہمارے پاس آگے کا راستہ واضح ہے، جو کہ مثبت ہے۔‘