کوئٹہ میں سردی اور شدید بارش کے باوجودجبری لاپتہ لواحقین کا احتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ کی سردی اور شدید بارش کے باوجود بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6082ویں روز جاری رہا۔

اس دروان کامریڈ منظور احمد بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

آج احتجاج میں 8 دسمبر 2016 سے جبری لاپتہ نعمت اللہ کے والدہ نے حصہ لیا، انہوں نے اپنے بیٹے کی باحفاظت بازیابی کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، انہوں نے کہا کہ اس کے بیٹے کی جبری گمشدگی، لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن کے سامنے ثابت ہوئی ہے، کہ ان کو ملکی اداروں نے حراست میں لیا ہے، اور حکومتی کمیشن نے دو سال قبل نعمت اللہ کا پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے باوجود بھی نہ اب تک نعمت اللہ کو منظر عام پر لایا گیا ہے، اور نہ ہی ان کے خیریت بارے ان کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں نعمت اللہ کی سلامتی کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہے، انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی، کہ وہ نعمت اللہ کی باحفاظت بازیابی میں اپنی کردار ادا کریں۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جب عدلیہ اور کمیشن کسی بھی جبری لاپتہ شخص کا پرڈوکشن آرڈر جاری کرے، تو یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے، وہ اس جبری شخص کو فوری طور پر منظر عام پر لانے میں اپنی کردار ادا کریں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں جبری لاپتہ افراد کے پرڈوکشن آرڈر کئی سالوں سے جاری ہوئی ہے، نہ ان جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جارہا ہے، اور نہ ہی ان کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جاری ہیں، جو ملکی قوانین اور شہریوں کی بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہیں۔

انہوں نے ایک دفعہ پھر حکومت سے مطالبہ کیا نعمت اللہ سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے کمیشن کے جاری پروڈکشن آرڈرز پر فوری طور پر عملدرآمد کو یقینی بنا کر اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائیں۔

Share This Article