سعودی عرب کی ثالثی کے ذریعے افغان طالبان نے 3 پاکستانی فوجی رہا کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی عرب کی ثالثی کے ذریعے تین پاکستانی فوجیوں کو رمضان المبارک کے موقع پر جیل سے رہا کیا گیا۔

ذبیح مجاہد نے دعویٰ کیا کہ فوجیوں کو 12 اکتوبر کو جنوبی افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان کی سرکاری افواج کے ’انتقامی حملوں‘ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ ’امارت اسلامیہ نے ان قیدیوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے رہا کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی افواج نے افغان جانب سے کوئی فوجی نہیں پکڑا۔

طالبان حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان نے تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات پر زور دینے کی اپنی پالیسی کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کے اعزاز میں جو کہ رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے اور برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی میزبانی کی درخواست کے جواب میں کل پیر کے روز کابل پہنچنے والے تین پاکستانی فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ رہا کیا۔‘

پاکستان نے ابھی تک ان قیدیوں کی رہائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Share This Article