نامور بلوچی شاعر مجید عاجز بالیچاہ میں سپردِ خاک ، ہزاروں سوگواروں کی تاریخی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچی زبان کے معروف شاعر، ادبی و انقلابی لہجے کے حامل مجید عاجز کو ان کے آبائی علاقے بالیچاہ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تدفین میں تربت سمیت مکران کے مختلف علاقوں سے عوام کی غیر معمولی تعداد نے شرکت کی، جس نے اس سانحے کو ایک تاریخی اجتماعی لمحہ بنا دیا۔

گزشتہ جمعہ کی صبح مسقط، عمان میں مجید عاجز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی تصدیق قریبی دوستوں نے کی، جس کے بعد یہ خبر پورے بلوچستان اور بیرونِ ملک موجود بلوچی ادبی حلقوں میں گہرے صدمے کا باعث بنی۔

مرحوم کی میت کراچی منتقل کی گئی، جہاں سے آج دوپہر ایمبولینس کے ذریعے بالیچاہ لایا گیا۔ راستے بھر شہریوں نے پھول نچھاور کیے اور خاموش عقیدت کے ساتھ آخری سلام پیش کیا۔

نمازِ جنازہ میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی، جسے ادبی حلقے مجید عاجز کی شاعری سے عوامی وابستگی اور ان کی سماجی حیثیت کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔

شرکاء کے مطابق یہ شرکت اس بات کی علامت ہے کہ مجید عاجز صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک ایسا ادبی اور فکری عہد تھے جس نے نسلِ نو کے احساسات اور خوابوں کو نئی سمت دی۔

مجید عاجز کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے بالیچاہ سے تھا۔ وہ اپنی شاعری میں رومانوی لہجے کو انقلابی رنگ کے ساتھ پیش کرنے کے باعث نوجوان نسل میں بے حد مقبول تھے۔

ان کے اشعار سوشل میڈیا، ادبی محفلوں اور نوجوانوں کی روزمرہ گفتگو تک میں جگہ پاتے تھے۔ مختصر عرصے میں انہوں نے ایک منفرد ادبی شناخت قائم کی، جس نے انہیں مکران کے نمایاں ترین شعرا میں شامل کر دیا۔

وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سیاسی حالات کے باعث جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی ان کی شاعری میں بلوچستان کی مٹی کی خوشبو، جدائی کا درد اور آزادی کی تڑپ نمایاں رہی۔

ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ جسمانی طور پر دور ضرور تھے، مگر فکری و جذباتی طور پر ہمیشہ اپنے لوگوں کے درمیان موجود رہے۔

بلوچستان بھر کے ادبی، سماجی اور ثقافتی حلقوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

انہیں بلوچی شاعری کا روشن باب قرار دیا جا رہا ہے، جس کا اختتام ان کی وفات کے ساتھ ہوا، مگر ان کا لفظ، لہجہ اور فکر آنے والی نسلوں کے دلوں اور کتابوں میں زندہ رہیں گے۔

Share This Article