کراچی: سی ٹی ڈی نے 4 گرفتار بلوچ نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

کائونٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) نے کراچی میں 4 گرفتار بلوچ نوجوانوں کو ایک جعلی مقابلے میں بے رحمی سے قتل کردیا ہے۔

سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہےکہ کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں فورسز نے ایک گھرپرچھاپہ مارا ، اس دوران دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

سی ٹی ڈی حکام کے دعوے کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ، ان کے قبضے سے کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیااور ہلاک دہشتگردوں میں جلیل،نیاز اور حمدان شامل ہیں۔

واضع رہے کہ جعلی مقابلے میں قتل کئے جانے والے نوجوان پہلے سے فورسز کے حراست میں تھے ۔جن کے حوالے سے 5 جنوری کو ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر کے شہر کو بڑی تباہی سے بچالیا گیا ہے ۔

پریس کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے 2ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لیکر ایک ملزم کو موقع سے گرفتارکرلیا اور بعد ازاں اس کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

غلام اظفر مہیسر نے دعویٰ کیاکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، عسکریت پسندوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔

انہوں نے بارودی مواد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے، یہ مواد بالکل تیار تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے دعویٰ کیا کہ اس کے منصوبے کے پیچھے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ہاتھ ہے، یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک کے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔

مذکورہ پریس کانفرنس میں حکام نے دعویٰ کیاتھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

اب یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں فورسز نے ایک گھرپرچھاپہ مارا جہاں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں جلیل ،نیاز اور حمدان ہلاک ہوئے۔

سی ٹی ڈی حکام نے مزید کہا کہ کارروائی میں سی ٹی ڈی کے 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔جبکہ دہشتگردوں کےکچھ ساتھی فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر دی گئی۔

سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ سرچنگ کے دوران گھر سے بارودی مواد برآمد کیا گیا جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنادیا۔

دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ گھرمیں ڈرموں میں آئی ڈیز تیارکی گئی تھیں، گھر سے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹونیٹک وائر اور سرکٹ بھی برآمدکرلیے گئے۔

جبکہ پاکستانی میڈیا نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسرکا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ بارودی مواد کے ساتھ گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری تھی، تینوں گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر شاہ لطیف میں چھاپا مارا گیا۔

ڈی آئی جی کے دعوئےکے مطابق چھاپے کے دوران گھر میں موجود ملزمان نے فائرنگ کی جس سےگرفتار دہشتگرد زخمی ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں گھر میں ایک دہشتگرد ماراگیا جبکہ زخمی تین دہشتگرد اسپتال پہنچنےسےقبل ہلاک ہوگئے۔

ڈی آئی جی اظفر نے بتایا کہ گھر سےباوردی مواد، 5 ہینڈگرنیڈ اور ایک ایس ایم جی ملی ہے۔

یاد رہے کہ سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کو مشکوک نظر سے دیکھا جاتاہے ۔ ایسے متعدد کیسز ریکارڈ پر موجود ہیں جہاں جعلی مقابلوں میں پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے انہیں بطور دہشت گرد پیش کیا گیا ہے ۔

ماضی میں تربت میں بالاچ بلوچ کو دوران حراست قتل کرکے ان کی نعش ویرانے میں پھینک دی گئی ۔ بالاچ کے حوالے سے ایسا ہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں دیگر دہشتگردوں کی نشاندہی اور آپریشن کے لئے لے جایا گیا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بن گیا ۔اب کراچی سے گرفتارنوجوان جلیل ، نیازاور حمدان کو اسی پیٹرن میںجعلی مقابلے میں قتل کردیا گیا ہے۔

Share This Article