بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی واقعات کے بعد کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے اپنے بڑے معدنیاتی منصوبے ریکوڈک کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو مارک ہِل کے مطابق بدلتی ہوئی صورتحال نے بورڈ کو منصوبے کی سرمایہ کاری، ٹائم لائن اور سیکیورٹی انتظامات پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارک ہِل نے آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں بتایا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات میں اضافے کے بعد ریکوڈک منصوبے کے لیے مختص وسائل اور اس کے مختلف حصوں کا تفصیلی تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جائزے کی تکمیل کے بعد کمپنی نئی پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔
ریکوڈک منصوبہ ملکیت کے اعتبار سے مشترکہ ہے، جس میں 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ، 25 فیصد وفاقی سرکاری اداروں اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے۔ یہ منصوبہ سونا اور تانبہ نکالنے کے حوالے سے پاکستان کے بڑے معدنیاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
مقامی آبادی کی جانب سے ماضی میں بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جن میں زمینوں کے استعمال، معاشی فوائد کی تقسیم اور روزگار میں غیرمقامی افراد کی شمولیت جیسے مسائل شامل ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں بلوچستان کے بعض اضلاع میں پیش آنے والے واقعات کے بعد مختلف مسلح گروہوں نے غیرملکی اور پاکستانی کمپنیوں کو بیانات کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں جاری منصوبوں سے دستبردار ہو جائیں۔ ان بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معدنی وسائل کے منصوبے مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر جاری ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور منصوبے کی حفاظت، تعمیراتی شیڈول اور سرمایہ جاتی بجٹ سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد آئندہ حکمتِ عملی کا اعلان کرے گی ۔