گوادر تک ایک صحافی کا سفر | اشرف خان ،امریکہ( دوسری قسط)

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

گذشتہ سے پیوستہ

ہم گوادر کے مرکزی بازار پہنچے تو سب سے پہلے ڈرائیور کو ادائیگی کی اور طے کیا کہ کسی ہوٹل میں جا کر دو گھنٹے کے لیے سستانا ضروری ہے، تاکہ سفر کی تھکن اتاری جا سکے۔ اُس وقت پی سی ہوٹل کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا، اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ جو چند ہوٹل موجود تھے، وہی ہمارے پاس واحد آپشن تھے۔ کسی نے ایک ہوٹل کی نشاندہی کی۔

ہم دروازے پر پہنچے تو وہ بند تھا۔ دستک دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ آس پاس کے دکانداروں نے ہوٹل کے منیجر کو آوازیں دیں، تب کہیں جا کر ایک شخص نے دروازہ کھولا۔ ہم نے دو کمروں کی بکنگ کی بات کی۔ وہ نیند سے جاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور منیجری ڈیسک کے پیچھے آ بیٹھا۔

میں نے اپنا فون میز پر رکھ دیا تھا۔ اُس نے نہایت اطمینان سے فون اٹھایا اور اس کا بغور جائزہ لینے لگا۔ اکثر لوگوں کو یاد ہوگانوکیا 3310، اُس زمانے کا سب سے مقبول موبائل فون۔ گوادر میں اُس وقت تک موبائل سگنل نہیں پہنچا تھا۔ ہم کمروں کے ریٹ پوچھ رہے تھے اور وہ فون کے ماڈل میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔

تب مجھے احساس ہوا کہ ہم گوادر میں ہیںجہاں زندگی کی رفتار کراچی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سست ہے۔ منیجر بھی اسی مزاج کے ساتھ ہم سے معاملہ کر رہا تھا۔ میں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور بالآخر کمروں کی چابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہم نے اپنے شناختی کارڈ اُس کے حوالے کیے اور کمروں کی طرف روانہ ہو گئے۔
میں نے اپنے ساتھی سے کہا:
“دو گھنٹے پھر ہمیں کام شروع کرنا ہے۔”
کیا کام کرنا ہے، یہ اُس وقت واضح نہیں تھا۔ البتہ سب سے بڑی ضرورت نیند کی تھی۔ میں بستر پر گرا اور فوراً سو گیا، مگر اس سے پہلے دو گھنٹے کا الارم لگا لیا۔
آنکھ الارم کی آواز پر ہی کھلی مکمل طور پر بے ربط اور گومگو کی حالت میں۔ ہوش بحال کر کے میں نے شاور لیا،( حقیقت میں بالٹی بھر کر نہایا تھا)۔ باہر نکل کر انڈا، پراٹھا اور چائے کا ناشتہ کیا۔
اب سب سے بڑا سوال یہی تھا:
کرنا کیا ہے؟

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، شاید میں نے کوئی خبر پڑھی تھی، یا محض ذہن میں خیال آیا کہ چند دن پہلے ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کی موومنٹ کے بارے میں کچھ سنا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا:
“ناشتے کے بعد فِش ہاربر چلتے ہیں—گوادر کی واحد مصروف صنعت۔”

ہم تقریباً نو بجے فِش ہاربر پہنچے۔ وہاں چھوٹی بڑی ماہی گیر کشتیوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ خاصی گہماگہمی تھی۔ زیادہ تر لکڑی کی کشتیاں تھیں، ویسی ہی جیسی کراچی میں نظر آتی ہیں۔ "مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ یہ فِش ہاربر آنے والے دنوں میں اپنا وجود کھو دے گا اور اس کی جگہ ایک بڑا پورٹ بن جائے گا۔ لیکن بعد میں میں نے دیکھا کہ یہاں پورٹ کی دیوہیکل کرینیں لگتے ہوئے دیکھیں، اور ماہی گیروں کی کمیونٹی کو بے دخل ہوتے ہوئے دیکھا، ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔

میں نے اپنے ساتھی سے کہا:
“اب ہم ماہی گیروں سے پوچھتے ہیں کہ کسی نے کوئی بڑا جہاز دیکھا ہے یا نہیں۔”
ہم نے سوال شروع کیے۔ مجھے درست تعداد یاد نہیں، مگر پچاس کے قریب لوگوں سے بات کی ہوگی، شاید اس سے بھی زیادہ۔ بالآخر ایک شخص ملا جس نے کہا:
“ہاں، میں نے دیکھا ہے۔”
میں نے پوچھا:
“کون سا جہاز؟”
اس نے کہا:
“امریکی جہاز تھا۔”
میں نے پوچھا:
“آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ امریکی تھا؟”
اس نے جواب دیا:
“اس پر جھنڈا لگا ہوا تھا، اور عرشے پر پچاس ساٹھ کے قریب طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود تھے۔”
میں نے پوچھا:
“کتنے فاصلے پر تھا؟”
اس نے کہا:
“تقریباً ڈیڑھ سو نیوٹیکل مائل۔”
میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ یہ پاکستانی علاقائی سمندری حدود کے اندر تھا۔ میں نے اپنی خوشی اس پر ظاہر نہیں کی کہ کہیں وہ مبالغہ آرائی شروع نہ کر دے، مگر وہ ایک سمجھ دار اور ذہین ماہی گیر نکلا۔
میں نے پوچھا:
“تمہیں فاصلے کا اندازہ کیسے ہوا؟”
اس نے کہا:
“میرے پاس کمپاس لگا ہوا ہے، میں نے چیک کیا تھا۔”
بس پھر کیا تھا — بِنگو!

میں اپنے ساتھی کی طرف دوڑا، جو اسی طرح لوگوں سے سوال کرتے ہوئے ہجوم میں کہیں گم ہو چکا تھا۔ میں نے اُسے ڈھونڈا، اور جیسے ہی وہ نظر آیا، جوش میں بتایا کہ ایک شخص مل گیا ہے جس نے جہاز دیکھا ہے۔
اس نے فوراً کہا:
“کہاں ہے؟ تصویریں لینی ہیں۔”

اُس زمانے میں ہماری نیوز ایجنسی ویڈیو سروس فراہم نہیں کرتی تھی، مگر تصاویر ہمیشہ خبر کا لازمی حصہ رہی ہیں۔ صرف تحریری خبر پروٹوکول کو کمزور کر دیتی ہے۔
ہم اس طرف لپکے جہاں وہ ماہی گیر ملا تھا، مگر تب تک وہ اپنی کشتی لے کر واپس سمندر کی طرف جا چکا تھا اور خاصا آگے نکل گیا تھا۔

میں نے اپنے ساتھی سے کہا:
“کوئی بات نہیں۔”
ہمیں ادارتی معیار کے مطابق کسی آزاد ذریعے سے بھی تصدیق درکار تھی۔ صحافت کا بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی خبر کی کم از کم دو آزاد ذرائع سے توثیق کی جائے۔
میں نے کہا:
“ہمیں ایک اور ‘منہ’ چاہیے۔”

ایک بار پھر ہم تلاش میں نکلے۔ غالباً ستمبر کے آخری دن تھےکیونکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ افغانستان پر حملے دو اکتوبر کو شروع ہوئے تھے۔ ہاربر کی گرمی اور نمی عروج پر تھی۔
زیادہ دیر نہ لگی اور ہمیں ایک اور شخص مل گیا۔ اُس کا نام آج تک یاد ہے — آدم۔

اس نے بھی تصدیق کی کہ امریکی جہاز موجود ہے، تقریباً اسی فاصلے پر۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک طیارہ اُڑ کر اس کے اوپر سے گزرا تھا۔ میرے ساتھی نے اس کی تصاویر لیںوہ جال سمیٹ رہا تھا اور کشتی کا معائنہ کر رہا تھا۔
میری خوشی عروج پر تھی۔

وہاں سے فارغ ہو کر ہم واپس ہوٹل پہنچے۔ میں نے اسلام آباد دفتر فون کیا۔ وہاں تمام عالمی ایڈیٹرز جمع تھے، کیونکہ ایک بڑا جنگی تھیٹر کھلنے والا تھا۔ میں نے انہیں تمام تفصیلات بتائیں۔
میرے ایڈیٹر نے کہا:
“ایک ایک لفظ جو تم نے دیکھا اور سناسب لکھ کر بھیج دو۔”

میں نے بیٹھ کر اسٹوری لکھی۔ اُس وقت ڈائل اپ انٹرنیٹ استعمال ہوتا تھا۔ میں نے ہوٹل منیجر سے کہا کہ مجھے کراچی فون لائن درکار ہےہمارا انٹرنیٹ فراہم کنندہ کراچی میں تھا۔

میں نے کنکشن ملایا۔ بومرز کو یاد ہوگا کہ ڈائل اپ کے دوران موڈیم سے ایک مخصوص آواز آتی تھی اُس لمحے وہ آواز مجھے موسیقی محسوس ہوئی۔
نیٹ کنیکٹ ہو گیا۔ میں نے اندرونی سافٹ ویئر پر اسٹوری ڈالی، کلک کیااور خبر فائل ہو گئی۔ میں نے ایک گہری سانس لی۔
ہم ہوٹل ہی میں بیٹھے رہے۔ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا سی این این یا بی بی سی۔ اچانک بریکنگ نیوز چلنے لگی:
“امریکی ایئرکرافٹ کیریئر پاکستان کے قریب پہنچ گیا ہے، افغانستان پر کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے۔”
یہ دن کی سب سے بڑی عالمی خبر تھی۔ کسی بھی بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے صحافی کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اس کی خبر Global Top News of the Day بنے۔

ایک غیر معروف، خاموش سی جگہ سے، میں بیٹھا یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ سی این این اور بی بی سی ہماری نیوز ایجنسی کو کریڈٹ دے رہے تھے۔ میرے ساتھی کی لی گئی تصاویر بھی چل رہی تھیں۔
وہ احساس — میں آج تک نہیں بھولا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ جب ہم نے خبر فائل کی تھی تو ایڈیٹرز نے ڈی سی بیورو سے بھی تصدیق کروائی تھی، اور وہاں سے کنفرم ہونے کے بعد ہی یہ خبر جاری کی گئی۔
میں نے اپنے ایڈیٹر سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کھل کر سراہا اور کہا:
“دو ایک دن تم لوگ وہیں ٹھہرو۔”

پہلا دن تو خوشی اور سرشاری میں گزر گیا، مگر اگلے دن بیزاری سی ہونے لگی۔ گوادر اُس وقت ایک خاموش، سست رفتار اور غیر معروف قصبہ تھا۔ ہم کچھ وقت گوادر بیچ پر گزارنے لگے، جہاں مجھے گوادر کے سمندر کے مزاج کا بھی اندازہ ہوا۔

یہاں مد و جزر کا عمل کراچی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ کراچی میں پانی آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے، مگر گوادر میں اچانک۔ بیچ پر چھوٹے چھوٹے کنکر بکھرے ہوتے ہیں۔ آپ بیٹھے ہوتے ہیں، پانی ابھی خاصا دور ہوتا ہے، سمندری پرندے فضا میں اڑتے یا پانی میں غوطہ لگاتے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور اچانک نظر پانی پر پڑتی ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر خاصا قریب آ چکا ہوتا ہے۔

بعد کے دوروں میں مجھے اندازہ ہوا کہ اگرچہ تاریخی حوالوں سے گوادر کی کوئی بہت مستند تاریخ دستیاب نہیں، تاہم روایات کے مطابق سکندرِ اعظم نے جنوبی ایشیا سے واپسی کے دوران یہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ سکندرِ اعظم مکران کے ساحلی علاقے سے گزرا تھا، مگر گوادر کے حوالے سے براہِ راست کوئی مضبوط حوالہ نہیں ملتا۔

یہ حقیقت بھی کم لوگ جانتے ہیں کہ گوادر کو پاکستان نے 1958 میں سلطنتِ عمان سے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کے عوض خریدا تھا۔ اس سودے کی مذاکرات کاری اُس وقت کے وزیرِ اعظم فیروز خان نون نے کی تھی، جبکہ مالی معاونت آغا خان نے فراہم کی۔ آج بھی گوادر میں ایک اسماعیلی محلہ موجود ہے، جو اُس تاریخی تعلق کی زندہ نشانی سمجھا جاتا ہے۔

٭٭٭

Share This Article