بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا احتجاج جاری، دفاتری نظام متاثر،400 سو سے زائد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں گرینڈ الائنس کی کال پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین کا احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پیر کے روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کے لیے ملازمین اور ان کی حمایت کے لیے جمع ہونے والے سیاسی رہنماؤں میں سے متعدد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالم خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکریٹری جہانگیر خان رند کو پولیس نے پریس کلب کے باہر سے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر نہ صرف پولیس سرکاری ملازمین کو گرفتار کررہی ہے بلکہ ملازمین بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے بلوچستان بھر میں رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

گرینڈ الائنس کے مطابق اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چار سو سے زائد ملازمین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی جانب سے ڈی آر اے کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے سے بلوچستان بھر میں سرکاری دفاتر کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

گرینڈ الائنس میں شامل سرکاری اساتذہ نے سمر زون کے اضلاع کے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کے بائیکاٹ بھی اعلان کیا تھا۔ سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات آج سے شروع ہونے تھے۔

اگرچہ محکمہ تعلیم نے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کو ملتوی کرنے کا نوٹیفیکیشن تو جاری کیا گیا ہے تاہم اس میں امتحانات ملتوی کیے جانے کی وجہ موسم کی خرابی بتائی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات اب چھ فروری سے ہوں گے۔

آل پارٹیز کے فیصلے کے مطابق آج بلوچستان بھر میں سیاسی جماعتوں نے بھی سرکاری ملازمین کی حمایت میں مظاہرے کیے۔

Share This Article