تربت: بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے خلاف آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام تربت شہر میں ایک بھرپور احتجاجی ریلی اور جلسہ عام منعقد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ریلی کی قیادت نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب خان شمبیزئی نے کی، جبکہ جلسہ شہید فدا چوک پر منعقد ہوا۔

ریلی اور جلسے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے علاوہ سماجی تنظیموں، وکلا، ڈاکٹرز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

احتجاج کا مرکزی مقصد معروف کاروباری شخصیت شاہ نواز گل جان کے اغوا برائے تاوان کے خلاف آواز بلند کرنا اور علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا تھا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور تشدد کا سلسلہ مشرف دور سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے، اور اب بچے اور خواتین بھی محفوظ نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہ نواز گل جان کے اغوا کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور جب تک ان کی بازیابی نہیں ہوتی احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ روزانہ لوگوں کو اٹھایا اور لاپتہ کیا جا رہا ہے، جبکہ تشدد اور طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا اور طاقت کے استعمال کو ترک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تربت میں ماضی میں سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں کسی حد تک امن بحال ہوا تھا، تاہم دوبارہ شہر کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے شہری غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزید کہا کہ اغوا برائے تاوان بلوچستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور مکران میں اس کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے سرحدی تجارت کی بندش کو عوام کے لیے معاشی دباؤ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ کیچ میں لینڈ مافیا کو تقویت دی جا رہی ہے، جس کے خلاف عوامی جدوجہد کا اعلان کیا۔

جلسے سے آل پارٹیز مکران کے کنوینر نواب شمبیزئی، ڈپٹی کنوینر علاؤالدین ایڈووکیٹ، سابق وزیر غفور بزنجو، سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی، ڈاکٹر علی جان، غلام یاسین بلوچ، ماجد سہرابی، مجید شاہ ایڈووکیٹ، مولابخش بلوچ، سید جان گچکی، خلیل تگرانی، گلزار دوست، کامریڈ ظریف زدگ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کیچ میں اغوا برائے تاوان اور بدامنی کے خلاف منظم اور پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جلسے کے اختتام پر شاہ نواز گل جان کی بازیابی کے حق میں قرارداد منظور کی گئی اور آل پارٹیز مکران کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ 28 جنوری کو مکران بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔

Share This Article