بحرہ بلوچ میں غیر قانونی ماہی گیری کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پسنی کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ کے ساتھ ساتھ بی نمبر کشتیاں بھی بڑی تعداد میں غیرقانونی طور پر مچھلیوں کا شکار کررہے ہیں ۔
ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً ایک سو کے قریب "بی نمبر” کشتیاں جو عام طور پر سندھ یا دیگر علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور رجسٹریشن کے بغیر یا جعلی نمبروں والی ہوتی ہیں پسنی کے سمندر میں داخل ہوئیں اور ہزاروں کلو گرام مچھلیاں غیر قانونی طریقوں سے شکار کر کے لے گئیں۔
مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ محکمہ فشریز کی گشتی ٹیمیں اس بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہیں۔ حالانکہ پاکستان کوسٹ گارڈز نے گزشتہ چند ماہ میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف کچھ کارروائیاں کیں اور ٹرالرز ضبط بھی کیےلیکن پسنی کے سمندر میں روزانہ کی بنیاد پر بی نمبر کشتیوں کی یلغار جاری ہے، یہ کشتیاں محکمہ فشریز بلوچستان میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران یہ بی نمبرکشتیاں ہزاروں کلومچھلیاں غیرقانونی طور پر شکار کرکے لے گئی ہیں۔