تربت میں سرکاری ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ،ڈی آر اے کی فوری منظوری کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں گرینڈ الائنس ضلع کیچ کے زیرِ اہتمام ڈی آر اے (Disparity Reduction Allowance) کے حق میں اور کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور حکومت سے ڈی آر اے کی فوری منظوری اور ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے الائنس کے رہنماؤں سبزل خان، اکبر اسماعیل، ظریف علیان، حاصل ولی، گلاب احمد اور دیگر مقررین نے کہا کہ سرکاری ملازمین طویل عرصے سے اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی آر اے بلوچستان کے ملازمین کا بنیادی حق ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں یہ الاؤنس دیا جا رہا ہے مگر بلوچستان میں ملازمین اس سے محروم ہیں، جو ناانصافی کے مترادف ہے۔

مقررین نے کہا کہ مہنگائی میں شدید اضافے کے باوجود ڈی آر اے کی عدم ادائیگی ملازمین کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

شرکاء نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اسے طاقت کے ذریعے دبانا قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور قید و بند سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کریں گے۔

مظاہرین نے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔ احتجاج میں ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی گئی۔

Share This Article