بلوچستان بھر میں اپنے جائز مطالبات کے حق احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف حکومت کی جانب سے کریک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے ، کئی رہنما اور کارکنان کو پابند سلاسل کردیا گیا ہے ۔
آج بروز منگل کو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پولیس نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی رہنما شفاء مینگل کو ان کے متعدد ساتھیوں سمیت اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ کوئٹہ پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کے لیے پہنچے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق شفاء مینگل اپنے حامیوں کے ہمراہ پریس کلب کے احاطے میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ پولیس نے انہیں پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا اور شفاء مینگل سمیت دیگر افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ضلعی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے گرفتاری کی باضابطہ وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم شہر میں دفعہ 144 کے نفاذ اور سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو اس کارروائی کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور اضافی نفری تعینات کی گئی۔
واضح رہے کہ شفاء مینگل کی قیادت میں بلوچستان گرینڈ الائنس گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی امور پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہے۔ پریس کلب جیسے صحافتی اور عوامی پلیٹ فارم پر پریس کانفرنس سے قبل گرفتاری کو سیاسی اور صحافتی حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
پریس کلب کے باہر موجود گرینڈ الائنس کے کارکنوں نے اس اقدام کو آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن قرار دیتے ہوئے اپنے رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔