کوئٹہ اور پنجگور سے 2 بھائیوں سمیت 4 نوجوان جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کوئٹہ اور پنجگور سے 2 بھائیوں سمیت 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کا کہنا ہے کہ عبدالقہار اور مصور قمبرانی کے لواحقین نے تنظیم سے رابطہ کرکے شکایت کی کہ سیکورٹی فورسز نے رواں سال 16 جنوری رات 12 بجے کو کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی میں چھاپوں کے دوران عبدالقہار ولد عبدالجبار قمبرانی اور مصور قمبرانی ولد افضل قمبرانی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

وی بی ایم پی کا کہنا تھا کہ لواحقین نے تنظیم سے یہ بھی شکایت کی، انہوں نے انتظامیہ سے کئی بار رابطہ کیا، لیکن نہ عبدالقہار اور مصور کی گرفتاری کی وجہ بتایا جارہا ہے، اور نہ ہی ان کے سلامتی کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا، جس کی وجہ سے خاندان شدید دبائو کا شکار ہے۔

دوسری جانب پنجگور کے علاقہ تسپ سے گزشتہ شب سیکیورٹی فورسز نے محمد عمران اکرم اور رضوان اکرم ولد محمد اکرم نامی 2 بھائیوں کو گھر میں چھاپہ مار کر حراست کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔

بی وائی سی پنجگور ہنکین نے جبری گمشدگی کے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور حکام سے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article