بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ خاران میں 12 مسلح افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ مسلح افراد نے بینکوں میں لوٹ مار کا منصوبہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے اے ٹی ایم توڑ کر پیسے لے جانے کی کوشش کی ،ایک بینک سے 34 لاکھ روپے لے کر فرار بھی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاران میں 15 سے 20 لوگوں نے داخل ہونے کی کوشش کی، بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنائی گئی، اس واقعے میں ایک عام شہری زخمی ہوا وہ سی ایم ایچ میں زیر علاج ہے۔
تین مقامات پر 4 مسلح افراد کو موقع پر ہی مارا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کے خلاف کارروائی میں فرنٹیئر کور نے اہم کردار ادا کیا، 12 مسلح افراد کو ہلاک کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نظریے سے شروع ہوکر بینک ڈکیٹی تک پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روز مسلح افراد نے پورے شہر کا کنٹرول سنبھال کر سرکاری دفاتر ، بنک اور پولیس اسٹیشن پرقبضہ کیا جبکہ حوالات سے قیدیوں کو رہا کردیا گیا اور سیکورٹی فورسزکے ساتھ ان کی جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں کئی اہلکاروں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں لیکن اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو ز سرفرازبگٹی کی اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں کہ خاران میں 15 سے 20 لوگوں نے داخل ہونے کی کوشش کوناکام بنایا گیا۔
ویڈیو زمیں صاف دیکھاجاسکتا ہے کہ خاران شہر میں مسلح افراد بغیر کسی خوف کے گشت کر رہے ہیں ،لوگوں سے گل مل رہے ہیں ، بنک اور تھانہ سمیت دیگر سرکاری دفاتر پر قبضہ کرکے شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔