خاران شہر پر مسلح افراد کے کنٹرول بعد حالات کشیدہ،جھڑپیں جاری ،کئی اہلکار ہلاک،کرفیو نافذ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے ضلع خاران میں  گذشتہ روزشام کے وقت شہر پر مسلح افراد کے کنٹرول کے بعد حالات شدیدکشیدہ ہیں ۔

مسلح افراد اور فورسز کے درمیان جھڑپ جاری ہیں ،کئی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

علاقائی ذرائع کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں بھاری ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور مختلف سرکاری دفاتر پر قبضے کے بعد شہر کے بعض حصوں پر کنٹرول جمائے رکھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران اسلحہ اور سرکاری سامان بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو زجو شہریوں کی جانب سے فلمائے گئے ہیں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد بڑی تعداد میں شہر میں داخل ہورہے ہیں اور انہیں کئی عوامی مقامات سمیت سرکاری دفاتر ، تھانہ اور بنک پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور گشت کے ساتھ ساتھ لوگوں سے بات کر رہے ہیں ۔جبکہ شہری ان کی نقل وحرکت کی ویڈیو بنارہے ہیں ۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اور پاکستانی فورسز کے درمیان شام تقریباً چار بجے سے رات ایک بجے تک گھنٹوں شدید جھڑپیں جاری رہیں۔

جھڑپوں کے دوران اعلیٰ فوجی افسران سمیت اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق تاحال نہیں کی گئی ہے۔

تاہم جھڑپوں کے دوران شہر کے مزارزئی محلہ، واپڈا کالونی میں ایک رہائشی مکان پر راکٹ گرنے کے نتیجے میں خاتون اور بچوں سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق شہری سلیم کے گھر اور اس کے گردونواح میں دو راکٹ گولے آ گرے، جس سے گھر میں موجود خواتین اور بچے شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدہ صورتحال کے باعث شیخ زید ہسپتال تک فوری رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

ایم ایس ہسپتال کی کوششوں کے باوجود زخمیوں کو بروقت منتقل نہیں کیا جا سکا۔

اس دوران محلے کے نوجوانوں شعیب احمد اور عزیز اکرم نے سوشل میڈیا کے ذریعے طبی ماہرین سے رابطہ کیا، جس پر ڈاکٹر عبدالمالک ہوتکانی، او ٹی اسسٹنٹ اورنگزیب پیرکزئی اور حاجی وحید برق موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

متاثرہ خاندان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گھر میں اب بھی ایک غیر پھٹا ہوا راکٹ گولہ موجود ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر پر کنٹرول کے دوران مسلح افراد نے پولیس تھانے پر قبضے کے بعد قیدیوں کو رہا کیا، پولیس ریکارڈ اور دیگر سامان کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ تھانے میں موجود اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔

مزید یہ کہ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کا اسلحہ قبضے میں لے گئے ہیں۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاران کے ریڈ زون میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران تین فوجی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، جبکہ دو بکتر بند گاڑیوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان گاڑیوں میں سوار تمام اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسی طرح دو پولیس اہلکاروں اور پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ کے دو کارندوں کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

مزید برآں، ذرائع نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران 10 سے زائد کواڈ کاپٹر ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ حملے میں درجن بھر اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی دی جا رہی ہیں۔ اعلیٰ فوجی افسران کے زخمی ہونے کی تصدیق بعض ذرائع نے کی ہے۔ جن میں لفٹیننٹ کرنل ودوھان اور میجر رینک کے آفیسر عاصم سمیت ایک صوبیدار شامل ہے۔

قریبی رہائشیوں کے مطابق جھڑپوں کے بعد ریڈ زون میں ہلاک فوجی اہلکاروں کی لاشوں کے قریب مسلح افراد کو دیکھا گیا جس میں مسلح افراد ان کا اسلحہ اور دیگر سازوسامان قبضے میں لے رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق شدید جھڑپوں کے بعد شہر کو مکمل طور پر فوج کے محاصرے میں لے لیا گیا ہے اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی قائم کر دی ہے، جبکہ گشت اور چیکنگ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے نفاذ کے باعث بازار، تعلیمی ادارے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

ذرائع کے مطابق خاران کا مرکزی اسپتال بھی پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور عام شہریوں کو اسپتال جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی دوران اطلاعات ہیں کہ چار مزید شدید زخمی فوجیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خاران شہر کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے حکام کی جانب سے اب تک کسی قسم کی کوئی آفیشل موقف جاری نہیں کی گئی ہے ۔

اسی طرح اب تک کسی تنظیم نے بھی مذکورہ کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔تاہم غیر مصدقہ ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ کارروائی بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)کی جانب سے کی گئی ہے مگر تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

Share This Article