پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے جیونی اور پنجگور سے 2 نوجوانوں کو حراسست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔ اور تربت اور جیونی سے 4 جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔جبکہ خاران سے بسیمہ کراچی روڈ پر نامعلوم شخص کی لاش برآمدہوئی ہے۔
گذشتہ روز 14 جنوری کو پنجگور میں ایف سی اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ ڈیتھ اسکواڈکے اہلکاروں نے رات گئے ایک گھر پر چھاپہ مارکر سہیل ولد لعل بخش نامی ایک نوجوان دکاندار کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
اسی طرح 13 جنوری کو ضلع گوادر کے علاقے جیونی پانوان سے ایف سی نے منیر ولد جان محمد نامی ایک ماہی گیر کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتل کردیا جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ ہوت آباد ،تربت اور جیونی سے 4 لاپتہ جبری نوجوان بازیاب ہوگئے ۔
بازیاب ہونے والوں کی شناخت پرویز ولدسرفراز،سراج ولد برکت ،یاسر ولد نعمت اللہ اور ثنا اللہ ولد دین محمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پرویز ولدسرفراز کو 20 اکتوبر2025 کو تربت سے ،سراج ولد برکت کو7 جنوری 2025 کیچ تمپ ہوت آبادسے ،یاسر نعمت کو 26 نومبر کوتربت سے اور ثنا اللہ کو 20 نومبر کو گوادر سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دریں اثنا خاران میں بسیمہ کراچی روڈ پر گروگ کے میدانی علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق لاش کو کافی وقت گزر چکا تھا، جس کے باعث اس کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی مکمل کی۔
پولیس کے مطابق شناخت نہ ہونے کی وجہ سے لاش کی امانتاً آخری رسومات کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔