کوئٹہ میں کتب میلے پر پولیس کا حملہ ،ہراسانی اور صحافی کی گرفتاری تشویشناک ہے،بساک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ( بساک) نے کوئٹہ کتب میلے پر پولیس کی طالبعلموں کو ہراساں اور نوجوان صحافی کو غیر قانونی حراست میں لینے عمل کو انتہائی تشویشناک قرار دیدیا ہے۔

بساک کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ تنظیم کی جانب سے بلوچستان بھر میں بلوچستان کتاب کاروان کے نام پر کتب میلوں کا مہم جاری ہے جس میں کوئٹہ میں کوئٹہ انتظامیہ کی جانب سے منتظمین کو مسلسل ہراساں کرنا اور اسٹال پر رپورٹنگ و کوئریج کے غرض آئے نوجوان صحافی سمیع بلوچ کو غیرقانونی حراست میں لینا جمہوریت و اظہار آزادی پر ایک حملہ ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی کوئٹہ میں جاری ایک اور کتب میلہ پر کوئٹہ پولیس کی جانب سے دھاو بول کر طالبعلموں کو ہراساں کرکے ان کو تھانہ میں لے جاکر قید کیا گیا اور کتابوں کو اپنےتحویل میں لیا گیا جبکہ بعد ازاں منتظمین کو رہا کردیا گیا۔ مگر آج پھر تنظیم کی جانب سے لگائے گئے کتب میلہ پر پولیس نے دھاو بول کر طالبعلموں کو ہراساں کیا اور ان کو اسٹال ختم کرنےپر دھمکیاں دی گئی جبکہ وہاں موجود نوجوان صحافی سمیع بلوچ نے پولیس کی اس غیرقانونی حرکت کے خلاف مزاحمت کی اور کتب میلہ کو کوریج دی تو پولیس نے ان کو زبردستی گرفتار کرکے غیرقانونی طورپر حراست میں لیا جو کہ انتہائی افسوسناک عمل اور صحافتی آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ آخر میں تنظیم حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ صحافی سمیع بلوچ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو کتاب سے دور کرنے کی ان سازشوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر علم دشمن رویوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیونکہ کتاب اور قلم پر قدغن لگانا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

Share This Article