شام میں حکومت و کرد جنگجوؤںمابین جھڑپیں، 12 افراد ہلاک ،ہزاروں افراد بے گھر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

شمالی شہر حلب میں شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان دو روزہ شدید جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہزاروں شہری بھی کرد اکثریتی علاقوں شیخ مقصود اور اشرفیہ سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان علاقوں میں مسلح گروہوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی اور اس کا مقصد صرف ’سکیورٹی قائم رکھنا‘ ہے۔

کرد قیادت والے شامی ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد نے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی حلب میں کوئی فوجی موجودگی نہیں ہے اس کارروائی کو شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی ’مجرمانہ کوشش‘ قرار دیا ہے۔

ایک حلب کے رہائشی نے بدھ کے روز بی بی سی کو بتایا کہ صورتحال ’انتہائی خوفناک اور ناقابلِ برداشت‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے تمام دوست دوسرے شہروں کو جا چکے ہیں۔ کبھی سکون ہوتا ہے اور اچانک جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔‘

اشرفیہ سے بے گھر ہونے والے شخص سمر عیسیٰ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک مسجد میں موجود ہیں جسے عاضی پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’گولہ باری شدید ہو گئی تھی۔ ہم اس لیے نکل آئے کیونکہ ہمارے بچے مزید دھماکوں اور گولہ باری کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔‘ انھوں نے اس صورتحال کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا۔

Share This Article