جھاؤ اور جیونی حملوں میں پاکستانی فوج کے 9 اہلکار ہلاک اور اسلحات ضبط کئے، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

 بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں بلوچستان کے علاقے جھاؤ اور جیونی حملوں میں پاکستانی فوج کے 9 اہلکاروں کی ہلاکت اور سرکاری اسلحات کو قبضے میں لینے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ میں دشمن فوج کے 7 اہلکاروں کو ہلاک، 6 کو زخمی کرنے، اور جیونی میں ملٹری انٹیلیجنس کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ان سے اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کو دہراتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض فورسز  پر حملے جاری رکھے گی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 جنوری کو جھاؤ کے علاقے کوٹو، کوٹوری کے مقام پر گھات لگا کر کئے گئے حملے میں قابض فوج کے قافلے میں شامل دو گاڑیوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 7 اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوئے، جبکہ دونوں گاڑیاں ناکارہ ہو گئیں۔
 

انہوں نے کہا کہ حملے کا نشانہ بننے والی قابض فوج کا قافلہ متعدد گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ حملے کے بعد حسبِ روایت قابض فوج نے قریبی گھروں پر دھاوا بولتے ہوئے مقامی آبادی کو ہراساں کیا۔ تاہم کارروائی کے بعد بلوچ سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب منتقل ہو گئے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں 3 جنوری کی شام 6:00 بجے بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تنظیم کے انٹیلیجنس ونگ کی اطلاع پر جیونی کے علاقے پانوان میں قابض پاکستان فوج کی ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو اہلکاروں کو ہدف بنا کر موقع پر ہی ہلاک کیا اور ان سے سرکاری اسلحہ اپنے قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔
 

Share This Article