سرکاری ملازمین کی ہڑتال پر پابندی مسترد،بلوچستان گرینڈ الائنس کااحتجاجی تحریک کو مزید سخت کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر عائد کردہ پابندی کو مسترد کرتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اور احتجاجی تحریک کو مزید سخت کیا جائے گا۔

جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ بروز جمعہ، 02 جنوری 2026 کو بلوچستان گرینڈ الائنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ روز کور کمیٹی کے اجلاس میں طے پانے والی مشترکہ تجاویز کی روشنی میں، حکومت کی جانب سے اپنی ہی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے، ہٹ دھرمی اور بے حسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، اور احتجاجی تحریک کو مزید سخت کرنے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کا مشترکہ سفارشات کو مسلسل نظرانداز کرنا، ملازمین کے مسائل پر خاموشی اختیار کرنا اور آئینی حقوق سے انحراف دراصل ملازمین کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ اس صورتحال میں بلوچستان گرینڈ الائنس کسی دباؤ، دھمکی یا جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں مرحلہ وار پرامن احتجاجی شیڈول کی منظوری دی گئی:

پہلا مرحلہ:

مرکزی/ضلعی آرگنائزنگ کمیٹیوں کی سرپرستی میں ریلیوں کی صورت اپنے اپنے حلقوں کے ایم پی ایز/صوبائی وزراء صاحبان کے گھروں پر جاکر یادداشتیں پیش کی جائیں گی، جن میں حکومتی کمیٹی اور گرینڈ الائنس کی مشترکہ سفارشات پر عملدرآمد میں تاخیر اور ملازم کش پالیسیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
شیڈول درج ذیل ہے:
05 جنوری 2026 — نصیرآباد اور ژوب ڈویژن کے تمام اضلاع
06 جنوری 2026 — سبی اور مکران ڈویژن کے تمام اضلاع
07 جنوری 2026 — لورالائی اور قلات ڈویژن کے تمام اضلاع
08 جنوری 2026 — کوئٹہ اور رخشان ڈویژن کے تمام اضلاع

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اگر حکومت نے بدستور ہٹ دھرمی جاری رکھی تو دوسرا مرحلہ بھی شروع کیا جائے گا۔

دوسرا مرحلہ:

مسلسل احتجاج کے طور پر دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک قومی شاہراہیں درج ذیل شیڈول کے مطابق بند کی جائیں گی:
12 جنوری 2026 — خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی، اُتھل (لسبیلہ)
13 جنوری 2026 — قلات، پشین (یارو)، لورالائی، دالبندین، تربت، پسنی
14 جنوری 2026 — ڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن، رکنی

تیسرا مرحلہ :

15 جنوری 2026 کو بلوچستان بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا اور تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔

آخری مرحلہ:
20 جنوری 2026 کو بلوچستان بھر کے ملازمین قافلوں کی صورت کوئٹہ کا رخ کریں گے اور ریڈ زون میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے، جو باقاعدہ نوٹیفکیشن تک جاری رہے گا۔

اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے پرامن اور جائز احتجاج کو روکنے کے لیے تشدد، گرفتاریوں یا کسی بھی غیر قانونی حربے کا سہارا لیا تو اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی، اور اس صورت میں صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل لاک ڈاؤن اور “جیل بھرو تحریک” کا آغاز کیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، ٹرانسپورٹرز، انسانی حقوق اور سماجی تنظیموں سے ملاقاتیں کی جائیں گی، انہیں ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور ان کی حمایت حاصل کی جائے گی۔

Share This Article