بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے عسکری حکام کی ایما پر بلوچستان میں جمہوری قوتوں ،سول اور عسکری حکام کے ناقدین اور آزادی اظہار رائے پر مزید قدغنیں لگانے کے لئے جسٹس آف پیس کے نام سےنافذ کردہ ایک نئے کالہ قانون کے تحت ضلعی افسران کو پولیس افسران کے برابر اختیارات تفویض کردیئے ہیں۔
بلوچستان کے کمشنر ز،ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22 کے تحت جسٹس آف پیس کے اختیارات تفویض کردئیے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان کمشنر ز،ایڈیشنل کمشنرز،اور ڈپٹی کمشنرز کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کی متعلقہ حدود میں جسٹس آف پیس مقرر کیا گیا۔
جسٹس آف پیس کو دفعہ 22-A اور 22-B کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے،،جن کے ذریعے وہ عوامی شکایات، پولیس سے متعلق معاملات اور دیگر قانونی امور نمٹا سکیں گے،جسٹس آف دی پیس کا کردار پولیس اور عدالتی نظام کے درمیان ایک سہولت کار کا ہے، جس کا بنیادی مقصد عوامی شکایات کا بروقت ازالہ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔جسٹس آف پیس سرکاری یا نجی گاڑی پر جسٹس آف پیس کا نشان استعمال نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ کوڈ آف کرمنل پروسیجر یعنی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کو پولیس افسر کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جن میں دفعہ 54 اور 55 کے تحت پولیس افسر اور انچارج پولیس سٹیشن کے اختیارات بھی شامل ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتا ہے، اگر وہ کسی قابل گرفت جرم میں ملوث ہو، اس کے خلاف معقول شکایت یا قابل اعتبار اطلاع موجود ہو یا اس پر معقول شبہ ہو۔ اگر کسی شخص کے قبضے میں گھر توڑنے کے آلات ہوں، چوری شدہ مال پایا جائے، یا وہ پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالے یا قانونی حراست سے فرار ہو جائے تو جسٹس آف پیس گرفتاری کر سکتا ہے۔