ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں تشویشناک ہیں، بی ڈبلیو ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ وومن فورم نے بلوچستان میں بلوچ خواتین کی مبینہ غیر آئینی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست اپنی ناکام پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے اجتماعی سزا کے طور پر خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے، جو نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں فورم نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق گھروں پر چھاپوں کے دوران بلوچ خواتین کو ماورائے آئین و قانون گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ جبری گمشدگیوں کے بعد متاثرہ خاندانوں کو دباؤ میں لانے اور مالی مطالبات جیسے ہتھکنڈوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جو انسانی وقار، انصاف اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے منافی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا درحقیقت پورے معاشرے کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، جس کے سنگین سماجی اور انسانی نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ بلوچ وومن فورم نے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لاپتہ خواتین کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، غیر قانونی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے، اور ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

فورم نے بلوچ عوام، سول سوسائٹی، میڈیا اور قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ پرامن، آئینی اور جمہوری ذرائع سے ان مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور بلوچ خواتین کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے، جبکہ انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اجتماعی اور پرامن جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Share This Article