تربت: سرکاری ملازمین کی احتجاجی ریلی، ڈی آر اے کی منظوری کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان گرینڈ الائنس کی مرکزی عاملہ کے فیصلوں کی روشنی میں سرکاری ملازمین نے ڈی آر اے سمیت اپنے دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے موخر شدہ احتجاجی تحریک کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

اسی سلسلے میں جمعہ 19 دسمبر 2025 کو ضلعی ایکشن کمیٹی کیچ گرینڈ الائنس کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن اور منظم احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں ضلع کیچ کے سینکڑوں مرد و خواتین سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔

احتجاجی ریلی گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے احاطے سے شروع ہوئی اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کے مرکزی بازار اور مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی تربت پریس کلب پہنچی، جہاں مظاہرین ایک بڑے احتجاجی اجتماع کی صورت میں جمع ہوئے۔

ریلی کی قیادت بلوچستان گرینڈ الائنس کے ضلعی قائدین نے کی، جن میں ڈپٹی آرگنائزر پروفیسر شعیب سمین، سیکرٹری اطلاعات و میڈیا کوآرڈی نیٹر صالح بلوچ، سیسا کیچ کے کامریڈ رسول بخش، ایپکا کیچ کے سبزل خان اور اکبر میاہ، ڈبلیو ٹی اے کیچ کے حاجی مفتی سعید احمد اور میر اللہ بخش، جی ٹی اے کیچ کے اکبر علی اکبر اور نسیم اکرم، بی پی ایل کے پروفیسر سالم رحیم اور پروفیسر گلاب بلوچ، جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ کے محمد قاسم بلوچ، فشریز ایمپلائز ایسوسی ایشن کے یاسین ظہیر، پمسا کیچ کے ظریف علیان اور دیگر تنظیموں کے رہنما شامل تھے۔

احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کی منظوری میں مسلسل تاخیر اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ڈی آر اے صوبائی ملازمین کا آئینی اور قانونی حق ہے، جو دیگر وفاقی اکائیوں میں دیا جا چکا ہے، تاہم بلوچستان کے ملازمین اس سے محروم ہیں۔

سیسا کیچ کے صدر کامریڈ رسول بخش نے کہا کہ حکومتی بے حسی اور تاخیری پالیسیوں نے ملازمین کو احتجاج پر مجبور کیا ہے، جبکہ بی پی ایل اے کے ڈویژنل صدر پروفیسر سالم رحیم نے مطالبہ کیا کہ وفاقی طرز پر بلوچستان کے ملازمین کو بھی ڈی آر اے دیا جائے۔

ایپکا کیچ کے ضلعی جنرل سیکرٹری اکبر میاہ نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ دیگر مقررین نے بھی قومی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور مہنگائی کے تناظر میں ملازمین کی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

آخر میں مقررین نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے سرکاری ملازمین کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو مزید شدت دی جائے گی، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

Share This Article