مکران میڈیکل کالج تربت کے احتجاجی طلبہ نے کوئٹہ پریس کلب میں کانفرنس کرتے ہوئے احتجاج کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے ۔
مکران میڈیکل کالج تربت کے نمائندہ طلبہ نے اپنے دیرینہ اور سنگین تعلیمی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔
طلبہ نے کہا کہ وہ گزشتہ آٹھ دنوں سے اپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے ہیں، مگر تاحال ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔
طلبہ کے مطابق ابتدا میں احتجاجی کیمپ سی پیک قومی شاہراہ پر لگایا گیا تھا، جسے بعد ازاں کیچ سول سوسائٹی اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ثالثی پر کالج کی حدود میں منتقل کیا گیا۔ مذاکرات کے دوران انتظامیہ کی جانب سے وعدے کیے گئے، تاہم عملی طور پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور ثالثی کار بھی معاملے سے الگ ہو گئے۔
طلبہ نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی جانب سے دھمکی آمیز رویہ اپنایا گیا، واٹر کینن استعمال کرنے اور ہاسٹل و میس بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ کچھ متاثرہ طلبہ بھوک ہڑتال پر بھی چلے گئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2024 میں بھی انہی مسائل پر احتجاج کیا گیا تھا، اس وقت کمشنر مکران، ڈپٹی کمشنر تربت اور اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دے کر ایک ماہ میں مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی، مگر ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ایک بھی مطالبہ پورا نہیں ہوا۔
طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج ہمیشہ پرامن رہا اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے راستے کھولنے کے اقدامات بھی کیے گئے، تاہم اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے دباؤ اور دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ نے موسم سرما کی غیر ضروری نوٹیفکیشن جاری کر کے احتجاجی کیمپ کو کمزور کرنے کی کوشش کی، جبکہ دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے استثنائی انتظامات جاری رہے۔
طلبہ نے اپنے اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تھرڈ ایئر کے سپلیمنٹری امتحان میں چار طلبہ کو زبانی امتحان میں غیر نصابی اور ذاتی بنیادوں پر اینول کیا گیا، حالانکہ وہ تحریری امتحان میں کامیاب تھے۔ ان کا الزام تھا کہ کالج انتظامیہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام اور میڈیا کو گمراہ کر رہی ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ان چار طلبہ کے نتائج کا شفاف اور غیر جانبدارانہ ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور خصوصی سپلیمنٹری امتحان منعقد کر کے ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
پریس کانفرنس میں پی ایم ڈی سی رجسٹریشن کے مسئلے کو بھی سنگین قرار دیا گیا۔ طلبہ کے مطابق چوتھی بیچ 2020-21 کے طلبہ چند ماہ میں گریجویٹ ہونے والے ہیں، مگر اب تک پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ نہیں ہو سکے، جبکہ چھٹی بیچ یا تھرڈ ایئر کے 33 طلبہ کی رجسٹریشن بھی تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن کے لیے فوری طور پر ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے جو 7 سے 14 دن میں یہ مسئلہ حل کرے۔
طلبہ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مکران میڈیکل کالج کو ECFMG یا یو ایس میڈیکل لائسنسنگ امتحانات کے لیے رجسٹرڈ کرایا جائے تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی مواقع حاصل ہو سکیں، کیونکہ دیگر میڈیکل کالجز کے طلبہ ان امتحانات میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ مکران میڈیکل کالج اس سہولت سے محروم ہے۔
اس کے علاوہ طلبہ نے ماہانہ 6 ہزار روپے اسکالرشپ یا سالانہ 72 ہزار روپے کی بروقت ادائیگی، ماڈیولر تعلیمی نظام میں شفافیت، OSPE/OSCE، اندرونی اسسمنٹ، تھیوری و پریکٹیکل نمبروں کی منصفانہ تقسیم اور وائوا پالیسی میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈی ایم ای کے خلاف انتظامی بدانتظامی، ذہنی دباؤ اور طلبہ کو ہراساں کرنے کی متعدد شکایات موجود ہیں، جن کا فوری نوٹس لیا جائے۔
آخر میں طلبہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، سیکرٹری صحت، پی ایم ڈی سی کے حکام اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد اور شفاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے، جو سات دن کے اندر سفارشات مرتب کر کے ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ طلبہ نے میڈیا اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس پرامن اور جائز تحریک کو اجاگر کریں تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔