نوشکی میں سرکاری ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ ،مطالبات کی منظوری کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی کال پر نوشکی میں سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی ریلی نکالی۔

ریلی ماڈل ہائی اسکول نوشکی سے آغاز کرتے ہوئے شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔

مظاہرے میں سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

شرکاء نے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈسپیئریٹی ریڈیکشن الاونس کی بقایا جات کی ادائیگی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ پنشن اصلاحات کی منسوخی اور نجکاری کے خاتمے جیسے مطالبات درج تھے۔

پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس کے ضلعی آرگنائزر و گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر بیبرگ بلوچ ایپکا کے صوبائی پریس سیکرٹری ظہور بلوچ پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر رحمن خان مینگل سیسا کے صدر نظام بلوچ ایریگیشن ایمپلائز یونین کے صدر احمد جان بی پی ایل اے کے عزیز احمد جمالدینی جی ٹی اے آئینی کے محمد رمضان حسنی وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن کے منظور بلوچ بابو اللہ گل اور منیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوش ربا مہنگائی نے ملازمین کا جینا مشکل بنا دیا ہے مگر حکومت نے تاحال مہنگائی کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جبکہ ڈی آر اےکے بقایا جات اب تک ادا نہیں کیے گئے۔

انہوں نے پنشن اصلاحات کو ریٹائر ملازمین کے لیے معاشی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری ختم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری ملازمین کا معاشی استحصال ہے جبکہ ٹیکنیکل و نان ٹیکنیکل اسامیوں کی اپ گریڈیشن ٹائم اسکیل اور درجہ چہارم کو گریڈ 4 دینے تک احتجاج جاری رہے گا۔

لواحقین کی بھرتی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفتر کو اختیارات کی منتقلی ہاؤس ریکوزیشن یوٹیلیٹی الاؤنس کی فراہمی اور جامعات و کارپوریشنز کے ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی بھی مطالبات میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین کی ترقیوں کے پیچیدہ طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنا ریگولر آسامیوں پر کنٹریکٹ تعیناتیوں کا خاتمہ مزدوروں کی ای او بی اور سوشل سکیورٹی رجسٹریشن تنخواہوں پر بھاری ٹیکس کٹوتیوں کا خاتمہ اور ملازمین تنظیموں پر پابندیوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔

مقررین نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج میں مزید شدت لائی جائے گی اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

Share This Article