بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کی ادارہ پانک نے خضدار سے پاکستانی فورسز ہاتھوں بلوچ خاتون فرزانہ زہری کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافے کے تناظر میں ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں خضدار سے ایک نوجوان خاتون کی مبینہ جبری گمشدگی رپورٹ ہوئی ہے۔
پانک کے مطابق فرزانہ زہری دختر محمد بخش زہری کو یکم دسمبر 2025 کی شب خضدار میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اسپتال سے واپس اپنے گھر جا رہی تھیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سے فرزانہ زہری کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں، جبکہ حکام کی جانب سے تاحال گرفتاری کی تصدیق یا قانونی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔ پانک کے مطابق متاثرہ خاندان حال ہی میں زہری سے نقل مکانی کر کے خضدار منتقل ہوا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔
پانک نے اس واقعے کو جبری گمشدگی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق رواں برس بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کوئٹہ سے ماہ جبین، حب چوکی سے نسرینہ، دالبندین سے رحیمہ اور خضدار سے فرزانہ زہری کی جبری گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام افراد تاحال پاکستانی فورسز کی تحویل میں ہیں۔
پانک نے فرزانہ زہری سمیت تمام لاپتہ افراد کی سلامتی کی ذمہ داری ریاست اور اس کے اداروں پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا بلا شرط رہا کیا جائے۔ تنظیم نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔
واضع رہے کہ سنگر نیوز نے 3 دسمبر کو فرزانہ زہری کی جبری گمشدگی کو رپورٹ کیا تھا ۔