بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے تازہ بیانات میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید غم و غصہ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کے مطابق ریاستی ادارے بلوچ عوام کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، نوجوانوں اور عام شہریوں کو جبری طور پر اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعد ازاں ان کی ہلاکت کو "مقابلہ” قرار دے کر قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
16 اپریل 2026 کے واقعات میں پنجگور اور پروم کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو قتل کیا گیا۔ ان میں شامل ہیں ،مروان ولد حمزہ بلوچ جس کی عمر18 سال تھا ، پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، بعد میں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔
حاتم بلوچ ولد حاجی محمدجس کی عمر17 سال تھااور وہ ایک طالب علم تھا کو 5 اپریل کو جبری طور پر اٹھایا گیا، کئی روز تشدد کے بعد اس کی گولیوں سے چھلنی لاش پھینک دی گئی۔
شہرام بلوچ ولد بہران جس کی عمر 38 سال تھا جو ایک چرواہا تھا کو 21 فروری کو لاپتہ کیاگیااور تقریباً دو ماہ بعد اس کو قتل کیا گیا جس کی ہلاکت ایک جعلی مقابلہ قرار پایا۔
ذوالفقار بلوچ جس کی عمر 47 سال تھا اور ایک چرواہا تھا کو 21 فروری کو اٹھایا گیا، بعد میں اس کو بھی ایک جعلی مقابلے کے نام پر قتل کیاگیا۔
بی وائی سی نے کہا کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت اور بلوچ نسل کشی کی واضح مثال ہیں۔
بیانات میں کہا گیا کہ ریاستی ادارے نہ صرف نوجوانوں کو قتل کر رہے ہیں بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ڈرون حملے اور جھوٹے مقدمات بھی معمول بنا چکے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری مظالم کا نوٹس لیں اور بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ ظلم مزید شدت اختیار کرے گا۔