بلوچستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں میں تیزی سے اضافہ ہواہے۔ مزید 6 نوجوانوں کومختلف علاقوں سے جبری لاپتہ کیا گیا جبکہ 4 لاپتہ افراد ریاستی عقوبت خانوں سے غیر انسانی اذیت سہہ کر رہا ہوکر گھر پہنچ گئے ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگیوں اور بازیابیوں کے تازہ واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی فورسز نے گزشتہ دنوں کم از کم 6 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جبکہ 4 لاپتہ افراد رہا ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔
کمیٹی کے مطابق جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد میں شامل ہیں:
علی اصغر ولد نور محمد ، 19 سالہ ماہی گیر، رہائشی پانوان جیونی، گوادر؛ 16 اپریل 2026 کو رات 11 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔
معراج ولد اللہ بخش ، 19 سالہ ایف ایس سی طالب علم، رہائشی بدرنگ گریشگ، خضدار؛ 12 اپریل کو کوئٹہ کے گرین پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اٹھایا۔
اشفاق بلوچ ولد محمد آدم ، 35 سالہ آئل ٹریڈر، رہائشی خدابادان، پنجگور؛ 17 اپریل کو شام 5 بجے گھر سے اٹھایا گیا (یہ ان کی دوسری جبری گمشدگی ہے)۔
عبدالواحد ولد داد محمد ، 35 سالہ آئل ٹریڈر، رہائشی خدابادان، پنجگور؛ 17 اپریل کو شام 5 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔
سلیمان ولد امان اللہ ، سابق فنانس سیکریٹری بی این پی عوامی، رہائشی خدابادان، پنجگور؛ 17 اپریل کو شام 5 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔
محمد تاج ولد تاج محمد ، 21 سالہ بلوچ گلوکار، رہائشی شاپک، کیچ؛ 17 اپریل کو رات 11 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔
بی وائی سی نے کہا کہ ان تمام افراد کو ایف سی، ایم آئی، سی ٹی ڈی اور ڈیٹھ اسکواڈ اہلکاروں نے گھروں سے حراست میں لیا، اور ان کے اہلِ خانہ کو اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تین لاپتہ افراد کی رہائی کی بھی تصدیق کی ہے جن میں خالد حبیب ولد حبیب اللہ ،رہائشی سولو بولیدہ، کیچ؛ 11 مارچ کو لاپتہ ہوا، 16 اپریل کو تربت سے رہا ہوا۔
بلال ولد خیر محمد ، رہائشی حاجی شاہ علی گوٹھ، شرافی، کراچی؛ 8 اپریل کو لاپتہ ہوا، 15 اپریل کو صدر کراچی سے رہا ہوا۔
نجیب اشرف ولد محمد اشرف اور اللہ بخش ولد عبد الکریم ،دونوں رہائشی سوراب؛ 8 اپریل کو لاپتہ ہوئے، 15 اپریل کو سوراب پولیس اسٹیشن سے رہا کیے گئے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور ریاستی ادارے ان واقعات کو "قانونی کارروائی” یا "مقابلہ” قرار دے کر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری مظالم کا نوٹس لیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔