بلوچستان کے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ بہن بھائی کی بازیابی کے لئے جاری دھرنا اہلخانہ کی ملاقات اور جلد رہائی کی یقین دہانی پر مؤخر کردیا گیا ہے۔
جبری لاپتہ رحیمہ بلوچ اور زبیر بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف لواحقین نے گزشتہ روز سورگل کے مقام پر روڈ بلاک کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے پہلے تین دن کی مہلت مانگی تھی، لیکن چار دن گزرنے کے باوجود ہمارے پیارے بازیاب نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انتظامیہ نے ایک بار پھر مکمل یقین دہانی کرائی کہ دونوں بہن بھائیوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد اہلِ خانہ کی اپنے پیاروں سے ملاقات کرائیں گے، جس کے باعث دھرنا مؤخر کر دیا گیا۔
اس یقین دہانی کے بعد لواحقین نے اپنا احتجاج ختم کر کے روڈ ٹریفک کے لیے کھول دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رحیمہ بلوچ اور زبیر بلوچ کے اہلخانہ نے مین شاہراہ پر دھرنا احتجاجاً بند کردیا تھا لیکن انتظامیہ کی اس یقین دہانی پر کہ ان کے لاپتہ پیاروں کی تین چار دن بعد رہا کیا جائے گاتو دھرنا ختم کردیا تھا ۔لیکن ا پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اب ایک بار اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے۔