بلوچستان کے ضلع گوادر کے تحصیل جیونی میں پاکستانی فورسز نے گاؤں پر دھاوا بول کر مکینوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 2 بھائیوں سمیت 3 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے ہی جیونی کے علاقے روبار میں فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ گاؤں، جس کی آبادی تقریباً دو ہزار نفوس پر مشتمل ہے، گزشتہ کئی روز سے پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کی زد میں ہے، جہاں مکینوں کو تشدد اور لوٹ مار کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فورسز ہر رات گھروں میں داخل ہو کر مکینوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں اور گھروں میں موجود قیمتی سامان تحویل میں لے لیتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 6 جنوری کو فورسز نے ایک گھر پر چھاپا مار کر وہاں موجود دو بھائیوں، 35 سالہ آصف عیسیٰ اور 28 سالہ پیری عیسیٰ ولد عیسیٰ، کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اس کے اگلے روز 7 جنوری کو، اسی علاقے سے 33 سالہ شاہ بخش ولد عمر کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔
مکینوں کے مطابق جیونی کا علاقہ روبار تاحال فورسز کے سرچ آپریشن کی زد میں ہے، شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے، جبکہ حراست میں لیے گئے تینوں نوجوان تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکے ہیں۔