بلوچستان کے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین سے گزشتہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بلوچ خاتون رحیمہ اور زبیر کی عدم بازیابی کے خلاف لواحقین نے آج ایک بار پھر سورگل کے مقام دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا ہے ۔
اس سے قبل اہلِ خانہ نے احتجاجاً سڑک بند کی تھی، جسے انتظامیہ کی جانب سے تین دن کی مہلت اور مذاکرات کے بعد کھول دیا گیا تھا، تاہم چار روز گزرنے کے باوجود دونوں بہن بھائی بازیاب نہیں ہو سکے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بچوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن انتظامیہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اہلِ خانہ نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ رحیمہ اور زبیر کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
عالمی برادری کی خاموشی کے باعث بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جاری جبری گمشدگیوں کا دائرہ اب خواتین تک پھیلایا دیا گیا ہے۔
اس سے قبل حب سے نسرینہ بلوچ اور کوئٹہ سے ماہ جبین بلوچ کو فورسز کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔