27ویں آئینی ترمیم بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھا دے گی،برلن پینل کا انتباہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جرمنی کے دارلحکومت برلن میں ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک پینل نے کہا ہے کہ پاکستان کی منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور اور ایگزیکٹو اختیارات کو غیر معمولی طور پر وسیع کر دے گی، جس سے سیاسی طور پر محروم طبقات، خصوصاً بلوچستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق مزید خطرے میں پڑ جائیں گے۔

مباحثے کی میزبانی سابق بی بی سی نامہ نگار سحر بلوچ نے کی، جبکہ پینل میں سیاسی تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ اور ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان (HRCB) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبداللہ عباس شریک تھے۔

رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ ترمیم عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان طاقت کے توازن کو “بنیادی طور پر تبدیل” کر دیتی ہے اور عدالتوں کی جانب سے حکومتی اقدامات کے جائزے یا چیلنج کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا:”حقوق کاغذ پر موجود رہتے ہیں، لیکن جب عدالتوں سے ان کی عملداری چھین لی جائے تو وہ بے معنی ہو جاتے ہیں۔”

کاکڑ کے مطابق 1973 کا آئین ایک ایسا سیاسی فریم ورک تھا جس میں پاکستان کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو اسٹیک ہولڈرز کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا، لیکن نئی ترمیم اس تصور کو کمزور کرتی ہے۔

HRCB کے سربراہ عبداللہ عباس نے کہا کہ بلوچستان میں اس ترمیم کے اثرات سب سے زیادہ شدید ہوں گے، کیونکہ یہاں پہلے ہی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا "یہ قانون پورے پاکستان پر لاگو ہوتا ہے، لیکن بلوچستان ایک منفرد کیس ہے۔ یہاں کے ادارے پہلے ہی شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔”

عباس کے مطابق برسوں سے جاری ریاستی بیانیہ اور اختلافِ رائے کو جرم بنا کر پیش کرنے کی پالیسی نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کیا ہے۔

پینل میں پیش کیے گئے HRCB کے اعداد وشمار کے مطابق 2025 میں بلوچستان میں صورتحال بدترین رہی ۔

ایچ آر سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بلوچستان میں 1455 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اور 538 افراد ہلاک ہوئے۔ تنظیم نے مبینہ طور پر حراست میں ہلاک ہونے والے 92 افراد اور 55 افراد کو "مرحلہ وار مقابلوں” کے طور پر مارے جانے کا ریکارڈ کیا۔

عبداللہ عباس نے کہا "بلوچستان میں آئین عملی طور پر موجود ہی نہیں۔ 27ویں ترمیم کے بعد قانونی چارہ جوئی کی آخری امید بھی ختم ہو رہی ہے۔”

عبداللہ عباس نے مزید کہا کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں حالیہ ترامیم جبری گمشدگیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا”جو کچھ چین نے ایغوروں کے ساتھ قانون سازی اور نگرانی کے ذریعے کیا، وہی ماڈل اب بلوچستان میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ جبر کی ادارہ جاتی شکل ہے۔”

پینل نے خبردار کیا کہ اگر مضبوط شہری مزاحمت، قانونی جدوجہد اور بین الاقوامی نگرانی نہ ہوئی تو یہ ترمیم پاکستان میں جمہوری توازن اور احتساب کے باقی ماندہ ڈھانچے کو بھی کمزور کر دے گی۔

Share This Article