برمش پبلی کیشن کی جانب سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت اور یادداشت پر مشتمل خصوصی دستاویزی کتاب "زالبول زندانی” شائع کردیا گیا ہے ۔
برمش پبلی کیشن، جو بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے شعبۂ ادب کے تحت کام کرتی ہے، نے “زالبول زندانی” کے عنوان سے ایک خصوصی میگزین شائع کیا ہے۔
یہ شمارہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف پانچ روزہ مہم کے دوران تیار کیا گیا، جس کا مقصد اس سنگین انسانی حقوق کے مسئلے کو دستاویزی شکل دینا اور متاثرہ خواتین کی آواز کو اجتماعی ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے۔
میگزین میں جبری گمشدگی کے متعدد دستاویزی کیسز، سیاسی و تجزیاتی مضامین، ذاتی خطوط، ویڈیو بیانات کے متون، شاعری اور مہم کے دوران تخلیق کی گئی مختلف آرٹ ورک شامل ہیں۔ یہ تمام مواد اُن آوازوں کو محفوظ کرتا ہے جو ریاستی جبر کے باعث مسلسل خاموش کر دی جاتی ہیں، اور انہیں ایک مشترکہ تاریخی و سیاسی تناظر میں پیش کرتا ہے۔
ادارتی نوٹ کے مطابق، “زالبول زندانی” دو بنیادی مقاصد کی تکمیل کرتا ہے:
- جبری گمشدگی کو ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دستاویزی شکل دینا
- بلوچ خواتین کی موجودگی، ایجنسی اور سیاسی آواز کو نمایاں کرنا
میگزین میں ذاتی گواہیوں کو قانونی دستاویزات اور سیاسی تجزیوں کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، جس کے ذریعے غم کو اجتماعی یادداشت، خاموشی کو ثبوت، اور تخلیقی اظہار کو مزاحمت میں تبدیل کیا گیا ہے۔
پبلی کیشن کے مطابق یہ شمارہ محض واقعات کا ریکارڈ نہیں بلکہ ایک سیاسی عمل ہے،ایسا عمل جو ان تجربات کو محفوظ کرتا ہے جنہیں سرکاری بیانیے میں جگہ نہیں دی جاتی، اور جبری گمشدگی کے معمول بن جانے کو چیلنج کرتا ہے۔ میگزین کے ذریعے متاثرین کی آوازیں انصاف، جوابدہی اور شناخت کے مطالبے کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
میگزین تک رسائی:
- BYC کے آفیشل ٹیلیگرام چینل پر:
https://t.me/bycofficial/2007 - متبادل لنک:
https://gofile.io/d/1APrry