اغوا برائے تاوان کے خلاف مکران بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروبار بند

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے تین اضلاع کیچ ،گوادر اور پنجگور پر مشتمل مکران ڈویژن میں اغوا برائے تاوان کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور کاروبار بندہے ۔

تربت شہر میں بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے خلاف آل پارٹیز کیچ کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جس کے باعث تجارتی مراکز، دکانیں اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

ہڑتال کی نگرانی کے لیے سیاسی جماعتوں کے قائدین تربت چوک پر موجود ہیں۔

ہڑتال کی نگرانی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں بجار بلوچ، محمد جان دشتی، کہدہ محمد نور، یونس جاوید، طارق بابل اور حفیظ علی بخش، حاجی شوکت دشتی، سرتاج گچکی جب کہ بی این پی عوامی کیچ کے ضلعی صدر سید عابد نور، سینئر رہنما غمداد کریم، ڈاکٹر فاروق رند، نثار احمد جوسکی، سیٹھ اعجاز اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے کر رہے ہیں۔

آل پارٹیز کے کنوینر نواب شمبے زئی، خلیل تگرانی، غلام یاسین، ظریف زدگ، حافظ عبدالحفیظ مینگل، سعید تگرانی اور تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست بھی مختلف علاقوں میں ہڑتال کی نگرانی کررہے ہیں۔

آل پارٹیز کیچ کی جانب سے جاری اپیل کے تحت مکران بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے جس میں ضلع کیچ کے علاوہ گوادر اور پنجگور میں بھی کاروبار بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہڑتال کا مقصد تربت میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کے خلاف احتجاج اور لاپتہ ہونے والے ٹھیکیدار گل جان کے بیٹے شاہ نواز کی بازیابی کا مطالبہ ہے جس کے اغوا کاروں نے بھاری تاوان طلب کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی آل پارٹیز کیچ کی جانب سے شاہ نواز کی بازیابی اور بدامنی کے خلاف احتجاجی ریلیاں، جلسے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کی جا چکی ہیں تاہم مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی قائدین نے اس موقع پر کہا کہ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شاہ نواز کو فوری بازیاب کرایا جائے اور مکران میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

Share This Article