بلوچستان میں لاپتہ افراد کی سرگرم ومتحرک تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کا 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے جاری کردہ وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خواتین کو بھی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ اس سال ان کی تنظیم کو جبری گمشدگیوں کے 1,237 واقعات رپورٹ ہوئے۔ "کل میں سے 312 لاپتہ افراد کو رہا کیا گیا، جب کہ 71 بلوچ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔”
یاد رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ہر سال کی طرح اس سال بھی 10 دسمبر کو پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کیا تھا لیکن انھیں کوئٹہ شہر میں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔
نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں پہلے سے نافذ کردہ دفعہ 144 کی مدت آٹھ دسمبر کو ختم ہورہی تھی لیکن آٹھ دسمبر کے روز ہی ایک مرتبہ پھر نیا نوٹیفیکیشن جاری کرکے شہر میں 22 دسمبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تنظیم حقوق انسانی کے عالمی دن پر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرنا چاہتی تھی لیکن جب انھوں نے انتظامیہ کے لوگوں سے رابطہ کیا تو انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی گئی تو آپ لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم پرامن رہی ہے اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرتی رہی ہے لیکن ہمیں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہمیں اپنا احتجاج مؤخرکرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن ہم سے یہ حق بھی چھینا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ آٹھ دسمبر کو محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر 22 دسمبر تک کوئٹہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔
اس سلسلے میں جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق دیگر پابندیوں کے علاوہ شہر میں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے۔