آواران و خضدار میں پاکستانی فوج کی لشکر کشی دوران درجنوں افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے آواران اور خضدار میں پاکستانی فوج نے دوران لشکر کشی درجنوں افراد کو جبری لاپتہ کردیا ہے۔

آواران کے علاقے جھاؤ میں گزشتہ دو روز سے پاکستانی فوج کی جارحیت جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق کوہڑو میں فوج کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ قریبی دیہات کے مکینوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور جگہ کسی جگہ جانے کی کوشش نہ کریں، ورنہ وہ اپنی جان و مال کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

اسی دوران اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ فوج نے اورناچ (خضدار) میں بھی اپنی نفری میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے فوجی جارحیت کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب، خضدار کے علاقہ گریشہ میں بھی فوجی جارحیت جاری ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ فوج نے اس دوران متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردینا گیا ہے۔

لاپتہ افراد میں سلیم بلوچ ولد بلو خان، زاہد بلوچ ولد زہری خان، بشیر احمد ولد زہری خان، عبدالغنی ساجدی ولد الہی بخش ضمیر بلوچ ولد واحد، عارف ھمبل ولد گاجیان ظہور بلوچ ولد پتے محمد شامل ہیں۔

یہ تمام افراد کو گریشہ کے علاقے بدرنگ سے فوج نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔

تاہم دیگر لاپتہ افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی اور مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔

Share This Article